بين الافغان مذاکرات کا آغاز 5 ہزار قيدیوں کی رہائی سے مشروط ہے، طالبان




نیویارک: (9 جون 2020) افغان طالبان نے ايک مرتبہ پھر عالمی برادری پر واضح کيا ہے کہ بين الافغان امن مذاکرات کا آغاز ان کے پانچ ہزار قيدیوں کی رہائی سے مشروط ہے۔

امریکی ٹی وی کے مطابق امريکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خليل زاد امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پھر سے سرگرم ہيں۔ خليل زاد نے قطر ميں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بعد اتوار کو پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ دورے کے بعد وہ کابل روانہ ہوگئے۔ امريکا کے ساتھ امن مذاکرات ميں طالبان کی ٹيم کی سربراہی کرنے والے طالبان رہنما شير محمد عباس استنکزئی نے امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ زلمے خليل زاد کا خطے کے بار بار دورہ کرنے کا مقصد بین الافغان مذاکرات کے جلد آغاز کی کوشش ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق طالبان کی اعلیٰ قيادت نے قيديوں کے تبادلے کے دوران ہی بين الافغان مذاکرات کی اجازت دے دی ہے اور اس سلسلے ميں افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات جرمنی يا پھر ناروے کے دارالحکومت اوسلو ميں ہوں گے ليکن پیر کو امریکی ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں شير عباس استنکزئی نے ان اطلاعات کی تردید کی۔ ان کے مطابق ابھی تک افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے حوالے سے کسی حتمی تاريخ يا جگہ کے انتخاب پر بات چيت نہيں ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں