امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ کی آخری رسومات ادا




ہیوسٹن:(10جون 2020)امریکا میں سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں قتل کئے جانے والے سیاہ فام جارج فلائیڈ کی آخری رسومات ادا کردی گئیں جبکہ واشنگٹن میں طویل مظاہروں کے بعد پولیس اصلاحات منظور کرلی گئیں ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہیوسٹن میں جارج فلائیڈ کی آخری رسومات میں سماجی رہنماوں سمیت سیاہ اور سفید فام افراد کی بڑی تعداد نےشرکت کی۔

سابق امریکی نائب صدر جوبائیڈن نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکا کو نسل پرستی سے بچانا ہوگا، تمام امریکی مساوی سلوک کے حقدار ہیں۔

رہنما انسانی حقوق ولیم لاسن کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے وائٹ ہاؤس کو صاف کرناہوگا، امریکا کو متعصب اور ہٹ دھرم ٹرمپ سےنجات دلاناہوگی۔دوسری جانب واشنگٹن میں طویل مظاہروں کے بعد پولیس اصلاحات منظور کرلی گئیں ہیں، اصلاحات کے مطابق پولیس ملزم کا گلا دبا سکے گی نہ گلے پر گٹھنا رکھ سکے گی۔

اس کے علاوہ امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ اراکین پارلیمنٹ نے پولیس کے تشدد اور نسل پرستانہ ناانصافی پر لگام لگانے کے لیے ایک بل تیار کیا ہے۔134 صفحات پر مشتمل اس بل کے مسودے کو سیاہ فام اراکین پارلیمنٹ کے ایک گروہ کی قیادت میں تیار کیا گیا ہے جس میں پولیس کے تشدد اور نسل پرستی پر مبنی ناانصافی کو روکنے کے لیے کئی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

اس سے قبل پیر کو ٹیکساس ریاست کے ہیوسٹن شہر میں ’دی فاؤنٹین آف پریج چرچ‘ میں جارج فلائیڈ کے اعزاز میں پروگرام کا انعقاد ہوا اور اس دوران ان کے تابوت کو لوگوں کے دیدار کے لئے رکھا گیا۔

یاد رہے کہ امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر مینی پولِس میں 25 مئی 2020 کو سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں 45 سالہ سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ ہلاک ہوگیا تھا۔

پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے جس نے امریکا کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لے رکھا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں