وہ چراخ بجھ گیا – قاضی نصیر عالم




میرے پاس تمہیں سنانے کو کوئی قصہ کوئی حکایت نہیں ……. اگرچہ حبس زدہ شب بہت طویل ہے۔ تاریکی چھٹنے کے کوئی آثار نہیں ….. سحر کی کوئی امید نہیں ۔ ہاں ….! میرے پاس ایک مغموم سی خاموشی ہے۔ پھر بھی اگر تم کچھ سننے کے آرزومند ہو توبس یہ اسی عہد کی تاریخ ہے ۔
اس وقت جب ہمارے دلوں کی سیاہی شب کی ظلمت اورتاریکی میں شامل ہوئی توچراغ جیسے روٹھ سے گئے اور یکے بعد دیگرے بجھتے چلے گئے ……. اور پھر اسی طویل شب کے جانے کس پہر وہ چراغ بھی بجھ گیا کہ جب آندھیاں درو و دیوار اکھاڑنے کے درپے تھیں تو وہ فصیل شہر پر اکیلا روشنی کیے ہوئے تھا۔ اس کی روشنی مہیب اندھیرے میں کھرے اور کھوٹے چہروں کے خدو خال کو عیاں کرتی تھی۔منافقت کے لبادے تار تار کرتی تھی ۔ تم اسے حکایت جانو گے لیکن وہ بہادروں کے اُس قبیلے کا تنہا شہسوار تھا . جس کا قبیلہ برسوں پہلے نامعلوم سر زمینوں کی طرف کوچ کر گیا تھا ۔ ہاں وہ محصور سرزمین پر موجود شہسوار قلع بند ہونے کے بجائے تنہا اپنی فصیلوں کے باہر چکر کاٹتا تھا اور سامنے پڑاؤ کیے ہوئے ہر لشکری کو دعوت مبارزت دیتا پھرتا تھا۔ خون کی تاثیر ہی ایسی تھی ۔ کتنے رنگ تھے اس کے اور ہر رنگ میں اسی کا رنگ غالب تھا۔
ہمارے وقت کے فرعون نے ملک کے کونے کونے سے جادوگر جمع کیے وعدہ بھی وہی پرانا تھا …….”تم سب مقرب لوگوں میں سے ہو جاؤ گے” اور پھر وہ گدھ کو عقاب بنا کر پیش کرتے اور گیدڑوں کو شیر بنا کر سامنے لاتے اور دنیا اس پر یقین کرتی تھی ایمان لاتی تھی ۔ “حرف حق” کی ادائیگی کو زباں میسر نہ تھی ۔۔ہاں انہی دنوں وہ کبھی عصائے موسی لیے فرعون کے ساحروں کے درمیان وارد ہوتا اور سر شام روز سجنے والے اس تماشے کے سارے سحر کو درہم برہم کر دیتا۔ اور تمہیں بغیر لگی لپٹی کے کہوں تو ہمارے فرعون کی تو کوئی اوقات ہی نہیں تھی کہ انہیں ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوائے جانے کا خوف ہوتا …… بس صلہ کی تمنا اور لالچ اتنی تھی کہ وہ بارہاپٹے ہوئے ساحر آج بھی پٹاری لیے بیٹھے ہیں۔ اور لوگ سانپوں سے منکوں کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور اپنے آپ کو ڈسوائے جا رہے ہیں ۔ اب کوئی بتائے شب مختصر ہو بھی تو کیونکر ہو۔۔
سر منبر اس کے وجود ہر ریشہ اس کے لفظوں کی صداقت کی گواہی دیتا تھا اور تم پوچھتے ہو اس کا حرف حق کیسا تھا ؟؟ ایسا کہ ظالم اور جابر اس کے حرف کی وضاحت طلب کرنے سے گھبراتے تھے کہ مبادا تشریح و تفسیر میں وہ کہیں کا نہ چھوڑے گا۔ ہاں میں نے اسے جاگتی آنکھوں سے دیکھا مجھے یہ سعادت کئی بار ملی …… میں اس کے عہد کا آدمی تھا ۔ نہیں ۔ بس میں نے اس کا عہد دیکھا تھا۔۔۔میں نے اپنے قلب پر اس کا نزول یوں ہوتے دیکھا کہ وہ اپنے دونوں ہاتھ بہادری اور حق گوئی کے کاندھوں پر رکھے ہوئے تھا اور دونوں ہی صفات اپنی قسمت پر نازاں تھیں …….اور اس کا جلال ایسا تھا کہ بارہا کی خواہش کے باوجود میں کبھی اس سے ہاتھ ملا نہ سکا۔ شب ابھی باقی ہے میرے پاس سنانے کو کوئی حکایت نہی۔۔فصیل شہر بوسیدہ ہو چکی۔۔اس کے دروازے کب سے وا ہیں اور ان بوسیدہ دیواروں کے باہر ںحیف سے وجود کا وہ طاقتور شہسوار اب موجود نہیں ……….
تمہیں وہ بات بتاؤں جو تمہیں کوئ نہی بتائے گا۔۔وہ اپنے وقت کا نفس ذکیہ تھا۔ اب تم پوچھو گے کہ اس نے بیعت کے لیے ہاتھ کیوں نہ بڑھایا ؟؟ اس لیے کہ اسے علم تھا کہ کوفیوں کے ہاتھ پر بیعت لینے کا مطلب اپنے کنبے کی ہی قربانی ہے۔۔۔اور قربانی نسبی سید سے بہتر بھلا کون ادا کرے ۔ قربانی تو وہ دیتے آئے ہیں ۔ بس اس کی غیرت نے ہم کوفیوں کی طرف بیعت کے لیے ہاتھ بڑھانا گوارا نہ کیا۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں