ہم لوگ محبت کی کہانی میں مرے ہیں – افشاں نوید




“میں نعیم الرحمن مخاطب ہوں۔ کوئی دکانوں کا رخ نہیں کرے گا۔ کوئی پولیس سے نہیں الجھے گا۔ ہمارا دشمن انڈیا ہے۔ ہمیں اس سے لڑنا ہے۔ زخمیوں کو فوری اسپتال پہنچائیں۔ آگے بڑھیں,مسلسل آگے بڑھیں۔۔۔ یہ کشمیر کاز ہے۔ نظم وضبط برقرار رکھیں, یہ دھشت گردی ہمارے قدم نہیں روک سکتی۔”
قیادت اس کو کہتے ہیں۔کارکن کو تنہا نہیں چھوڑا …..! صف اول میں موجود . ایک جانب زخمی اٹھائے جارہے ہیں . دوسری جانب حوصلے جوان ……. میڈیا کو بریفنگ, ریلی کا پیغام کہ اب واپس نہیں پلٹنا کشمیر پر ظلم کی سیاہ رات ختم ہونے کا وقت آن پہنچا۔ ہر اسپتال میں کارکنوں کے بیچ قیادت موجود ……. کسی اور سیاسی جماعت کے جلسے میں یہ دھماکہ ہوتا . یہ خون,یہ زخمی,یہ آہ وبکا . یہ ایمبولینسوں کے سائرن ….!
ایسے موقعوں پر دکانیں لوٹ لی جاتی ہیں۔ قیادت کو حفاظت کے پیش نظر اسٹیج کے پیچھے سے گاڑی میں “محفوظ مقام” پر پہنچا دیا جاتا ہے۔ لوگ الٹے پاؤں پلٹ جاتے ہیں قیادت کو برا بھلا کہتے ہوئے۔ ہاں خطرہ تو تھا,پھر کیوں نکالا, سیاسی قد کاٹھ میں اضافے کے لیے؟ نمبر اسکورنگ کے لیے؟ یہاں نکلنے والے سر پہ کفن باندھ کے نکلتے ہیں۔ یہ مشنری جذبے نمبر اسکورنگ کسی اور دربار میں چاہتے ہیں۔
کسی عظیم کاز کے لیے خواتین بھی دنیا کو متوجہ کرنے کے لیے ……. اسی طرح آواز بلند کرتی ہیں۔ خواتین کی ریلی میں بھی تاکید ہوتی ہے کہ نفل پڑھ کر نکلیں ، استغفار کر کے نکلیں ، باوضو ہو کر نکلیں ، قرآن ساتھ رکھیں ……. اب کوئی کہے کہ خواتین کو نکالنے کی ضرورت کیا ہے؟؟ تو خواتین تو کشمیر میں بھی سڑکوں پر پتھر جمع کررہی ہیں (آزادی کی تاریخ میں کہیں غلیل ہتھیار ہے اور کہیں پتھر) خواتین تو غزہ میں بھی سڑکوں پر دھائی دے رہی ہیں …… خواتین تو شام سے بھی نکالی گئیں اور بوسنیا سے بھی۔ موت گھر سے نکلنے سے آتی ہے تو۔۔۔ آج کی تاریخ میں آدھا بیروت تباہ ہوگیا . وہ تو گھروں میں بیٹھے تھے۔ تباھی آنا ھے تو آپکا پتہ پوچھ کر گھر کے اندر آجاتی ہے۔
عظیم ہیں وہ لوگ جو جانوں کے خوف سے گھروں کے دروازے بند نہیں کرلیتے۔ مومن تو دعا کرتا ہے سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کی۔ اس راہ کے زخم تو راہ وفا کے زخم ہیں جو نصیب والوں کو ملتے ہیں۔ سلام ریلی کے شرکاء پر جو اس عظیم کاز کے لیے گھروں سے نکلے۔ فیس بک پر پوسٹ ڈالنا,ٹی وی پر بیٹھ کر اظہار خیال کرنا اور بات ہے …… سر ھتیلی ہر رکھ کر سڑک پر آنا دوسری بات۔ چناروں کے اس پار پیغام پہنچ گیا ہوگا کہ نقشہ میں عملا کشمیر شامل ہونے کو ہے۔ اب پاکستانی عوام اس طرح اپنی آزادی کا جشن ترتیب دینگے کہ وہ کشمیر کی آزادی کی نوید لائے گا ان شاءاللہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں