قوم کی غیرت کہاں گئی – زبیر منصوری




قاضی نصیر پوچھتا ہے قوم کی غیرت کہاں گئی کہ ناچنے والیوں کے گندے ناپاک پاؤں اب مسجد وزیر خان کے محراب تک جا پہنچے؟ میں بتاتا ہوں ۔۔
جب قوموں کی خودی کو خوف اور خودغرضی کے تیزاب میں گھلا کر غلامانہ سوچ کے سانچوں میں ڈھالا جاتا ہے . جب ان کے نظام تربیت و تعلیم میں غیرت و حمیت کے سبق شامل نہیں ہوتے . جب ان کے نصاب انہیں بزدلی کو دانشمندی بنا کر دکھاتے ہیں . جب نئی نسلیں صرف “دو کف جو” کے لئے تیار کی جاتی ہیں . جب بڑے , بچوں کو صرف یہ سکھاتے ہیں یہ پڑھو اس سے پیسے زیاد دہ کما سکو گے . تب پھر وہ نسلیں تیار ہوتی ہیں جن کے اندر بہادری اور جرات مر جاتی ہے . جوہر چیز مین بس “میں میر ا مجھے” دیکھتے ہیں . انہیں مسجد بھی بس ایک اینٹ گارے کی عمارت نظر آتی ہے . تب وہ ناک اور مفاد سے آگے دیکھنا چھوڑ دیتے ہین تب “ہم ہمارا ہمیں “کے صیغے اجنبی ہو جاتے ہیں . تب لوگ پیاز کے چھلکوں کی طرح ہو جاتے ہیں . تب کائنات انسانیت امت قوم خاندان سب چھوٹے اور غیر متعلق ہوتے ہوتے بس ایک فرد رہ جاتا ہے تنہا اداس اکیلا …….. اور پھر اس کی اقدار بھی مر جاتی ہین کہ یہ تو بس زندہ انسانوں میں ہی زندہ رہ سکتی ہیں
اور ہاں یہ حمیت و غیرت و بہادری و جرات اور آگے بڑھ کر روکنے کی ہمت ہو یا بے حسی و بزدلی یہ سب ایک سے دوسرے کو لگنے والی چیزیں ہیں مجھے یقین ہے کچھ لوگ حوصلہ پیدا کرکے اس کے لائیٹ ہاؤس بنیں گے دئیے سے دئیے جلیں گے اور یہ بے شرم اور بے حیا طبقہ شکست کھا کر پسپا ہو گا۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں