سقوط ڈھاکہ، جماعت اسلامی اور پاکستان




دسمبر اپنے جلو میں سقوط ڈھاکہ کی دردناک یادیں سمیٹے آ پہنچا ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک لایعنی اور بے فائدہ بحث ہے. جو ہوا سو ہوا. مٹی پاؤ اور وطن کے نغموں کی سریلی لوریوں سے اس قوم کو میٹھی نیند سلاتے رہو. اس قوم کو جو ہر روز ایک نیا غم سہتی ہے، میٹھی لوریوں کی بہت سخت ضرورت ہے.
خود پاکستان کے نا خداؤں کا معاملہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لئے، اور قوم کی نسلوں کے آنکھوں پر بھی ہاتھ رکھ دیے. اور کہا وہ قصہ چھوڑو، اور یہ سنو، “یہ پتر ہٹاں دے نئین وکدے”. اس طور ہوا یوں کہ جو کچھ واقعی میں ہوا، اس سے تو لوگ واقف نہیں… اور یہاں وہاں سے جو کہانیاں دوسرے سناتے رہے وہ خوب پھیلتی رہیں. جب آپ کہانی نہیں سنائیں گے، تو کیا لوگ کہیں اور سے نہیں سن سکتے؟ اور جو کہانی دوسرے سنائیں گے، وہ ان کی کہانی تو ہو گی، آپ کی نہیں… مگر انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کے اس طوفان میں سچ جھوٹ کی کسے پرواہ. “میٹھا ہو اور بہت ہو ” کے مصداق، قصے ہونے چاہییں اور بہت چٹپٹے بھی ہونے چاہییں. چناچہ آج کی دنیا جن قصوں کو جانتی ہے، ان میں پاکستان کے کردار کی  بھیانک تصویر کشی اور قتل و غارت گری کے واقعات و اعداد و شمار میں مبالغہ آرائی کی گئی ہے اور آپ کی طرف سے بس ایک معذرت خواہانہ خاموشی؟ .
سقوط ڈھاکہ کی یادوں کے ساتھ ہی جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنماؤں کی پھانسی کی خبروں نے معاملات کو ایک اور رخ بھی بخشا ہے.جی ہاں وہی جماعت اسلامی جو قیام پاکستان کی مخالف تھی. اور پھر اسی پاکستان اور مقدس افواج کی مخالف جماعت اسلامی نے سنہ اکہتر میں اسی فوج کے ساتھ مل کر مظلوم بنگالیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے. کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس طرح بہت فائدے سمیٹے اور کچھ ان پھانسیوں اور سزاؤں پر خوشی سے بغلیں بجاتے ہیں، کہ ان ساتھ یہی ہونا چاہیے .
دفتروں، خواب گواہوں، اور بیٹھکوں میں بیٹھ کر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے لڑی جانے والی جنگوں کے اس دور کا ایک فتنہ یہ ہے کہ یہاں مطلق سچائی کوئی چیز نہیں، اس پر لوگ سرے سے یقین ہی نہیں کرتے… کچھ سہل پسندی اور کچھ بد دیانتی کے سبب تاریخی حقائق کو تلاش کرنے کی محنت کوئی گوارا نہیں کرتا.البتہ چیختی چنگھاڑتی، الزام تراشی کرتی، سو مرتبہ تردید شدہ جھوٹے الزامات سے سجی بہت سوں کے چھپے بغض اور نفرتوں کو تسکین پہنچاتی خبریں، سرخیاں اور دو چار لائنوں پر مشتمل بیانات خوب توجہ حاصل کرتے ہیں.
حالانکہ کچھ حقائق ہیں جو بارہا جماعت اسلامی کی دین و وطن سے محبت کے ثبوت کے طور پر سامنے لاے جاتے رہے ہیں.مولانا مودودی رح کی کتاب “مسلہ قومیت ” میں پیش کردہ “دو قومی نظریہ” نے تحریک پاکستان کی بنیادوں کی آبیاری کی. ،انہی مولانا مودودی کو قابل اعتماد جانتے ہوے مصور پاکستان علامہ اقبال نے اپنی پٹھانکوٹ والی زمیں کا ذمہ دار بنایا. اسی پاکستان کے لئے وہ “دارلسلام پٹھانکوٹ” کو چھوڑ کر ہجرت کے لاہور تشریف لاے.اسی پاکستان کو انہوں نے ایک مسجد کے متشابہ قرار دیا جس کی حفاظت کو اس جماعت کے لوگ اپنا فریضہ اول جانتے ہیں. ان ہی مولانا مودودی کو خصوصی دعوت پر ریڈیوپاکستان پر بلا بلا کر اسلام کےسیاسی، معاشی، اور سماجی نظام پر روشنی ڈلوائی گئی.اسی پاکستان کے دستور کو اسلامیانے کے لئے ان کی شبانہ روز جدوجہد ، علمی اور عملی کاوشیں، اور قید و بند کی صعوبتیں تاریخ کے صفحات پر درج ہیں .
اسی جماعت اسلامی نے ١٩٧١ میں، فوج کا ساتھ دینے کے لئے نہیں، بلکہ اپنا دینی و ملی فریضہ سمجھتے ہوے، رنگ، نسل، زبان اور علاقائی عصبیتوں سے بلند ہو کر مسلمانان پاکستان کو متحد اور یکجان رکھنے کے لئے، اپنوں کے ستم اور دشمن کی سازشوں کے نتیجے میں دو لخت ہوتے اس وطن کو بچانے کے لئے اپنی جان و مال کے نذرانے پیش کیے. سنہ ٧١ کے اس بد نصیب دسمبر کے انے سے بہت پہلے، مولانا مودودی رح اور جماعت اسلامی اپنی مقدور بھر سیاسی کوششیں کرتےرہے.  طاقت کے نشے میں چور حکمرانوں اور بادشہ گروں کو خبردار کرتے رہے، مگر بے سود. بلآخر بھارتی فوج کی مشرقی پاکستان میں در اندازی کے بعد جماعت اسلامی اور اسلامی جمیعت طلبہ کے جن لوگوں نے پاکستان کے حق میں لڑنے کا فیصلہ کیا ، وہ خود اسی سرزمین مشرقی پاکستان کے فرزند تھے. تعصب اور بغض کی عینک کو اتار کر دیکھا جاے، تو ان عظیم انسانوں کے اخلاص، دین اور وطن سے سچی محبت اور قربانی کا اعتراف کیے بغیر رہنا کسی بھی درد دل رکھنے والے کے لئے کیسے ممکن ہے.مشرقی پاکستان میں جب سونار بنگلہ کے نعرے بلند ہو رہے تھے، تو جماعت اسلامی کے جن لوگوں نے “پاکستان زندہ باد ” کی جنگ لڑیوہ بھی بنگالی ہی تھے.اپنی ہی زبان بولنے والوں کے درمیان اور اسی سرزمین پر رہ کر، اس وقت کے مقبول نعرے اور جنوں کے خلاف آواز اٹھانے کے سبب وہ عظیم انسان اپنی ہی زمیں پر اجنبی ہو گئے. ہزاروں میل دور بیٹھ کر محبت اور وفا داری کے نغمے گانا اور دشمن کو بھڑہکیں مارنا اور بات ہے، اور در حقیقت اپنے ہی گھر میں، اپنے خون سے محبت کی داستانیں رقم کرنا اور بات ہے.
اور ملک کی وہ با اختیار قوتیں جو درحقیقت ملک کو جوڑ کر رکھنے کی ذمہ دار تھیں، وہ طاقت اور اقتدار کی حرص اور لہو و لعب میں مگن تھیں. عوام کے غم و غصے کو دبا کر،  جائز حقوق کی ادائگی، کچھ لو اور کچھ دو کے تحت معاملات کو سلجھانے کی کوئی کوشش انہوں نے نہیں کی. ان کے ذہن پہلے ہی پیچھے ہٹنے کو تیار تھے، اس آدھے پاکستان کو حقیر اور ذلیل جاننے والے، وقت پڑنے پر با آسانی ہتھیار ڈال کر واپسی کے سفر پر روانہ ہو گئے. اپنے مفاد کے لئے زمیں کے جن عظیم بیٹوں کو بھیڑیوں کے آگے ڈالا تھا، ان کو انتہائی بے مروتی سے تنہا اور بے سروسامان چھوڑ کر پلٹ گئے. اس زمیں کی جانب جہاں ان کے گھر، زمینیں، عھدے اور تمغے ان کے منتظر تھے.اور مطلق سچائی پر یقین رکھنے والے “بے وقوف اور دیوانے” کہاں جاتے؟ ان کے سینوں میں سنگینیں گھونپی گئیں، دل نکال کر مسلے گئے، اور وہ اس حال میں بھی “پاکستان زندہ باد ” کا نعرہ مستانہ لگاتے اپنے لہو سے سچی کہانیاں رقم کر گئے. وطن سے محبت کے ترانے گانے والوں نے نہ اس وقت ان کا ساتھ دیا اور نہ ہی بعد میں کبھی ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا. وہ وہاں تو غدار ٹھہراۓ ہی گئے، یہاں پاک سرزمین میں بھی اجنبی ٹھہرے. ان گمنام شہیدوں کے نام الفاظ یا اعزازوں کی صورت میں احسان شناسی کی کوئی علامت تو در کنار، ان کو “اپنانے اور اون کرنے سے ہی انکار کر دیا گیا .
صاحبو، سچائی کا سامنا کرو، کوئی ایک بات سچی کرو….اگر تو اپنی سرزمین کو بچانے کی کوشش مطلق سچائی ہے، تو ان شہیدوں کی قربانیوں کا اعتراف کرو، یوں احسان فراموش نہ بنو. اور اگر زمینی حقائق کے نام پر علیحدگی ہی سچائی تھی، تو سب کو سزائیں دو، سب کو برا بھلا کہو. وطن کی محبت کا راگ الاپنے والے ہر فن کار، ہر سپاہی، ہر استاد، حکمران اور ہر صحافی کی مذمت ہونی چاہیے. اور زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ کئی زبانیں بولنے والی بہت سی قوموں کو سمیٹے یہ سرزمین تقسیم در تقسیم ہونے کے لئے بہت گنجائش رکھتی ہے. اور بہت کچھ …میدان تیار بھی ہے. لہٰذا آج ہی سے پوری سچائی کے ساتھ کھل کر تقسیم کے اس فلسفے کا ساتھ دو. اور جماعت اسلامی پر جھوٹے الزامات لگانا بند کرو.
جماعت اسلامی کا جرم یہ ہے کہ آج کے دور میں وہ مطلق سچائی پر یقین رکھتی ہے.اسلام ، امت مسلمہ اور پاکستان سے محبت اور وابستگی کا جو سبق بچوں کو صرف نصاب کی کتابوں میں امتحانات کی تیاری کے لئے پڑھایا جاتا ہے، یہ دیوانی جماعت اس کو حرز جان بنا کر رکھتی ہے .٧١ میں “فوج” کا ساتھ دیا… جواب میں کیا ملا؟ شہادتیں، صعوبتیں، پابندیاں، آج تک کی پھانسیاں، ؟ کوئی زمین؟ کوئی جائداد کوئی تمغہ؟ کوئی حکومت میں حصہ؟٨٠ کی دھائی میں افغانستان میں استعماری اور غاصب روسی فوج کے خلاف اپنے برادر اسلامی ملک کا ساتھ دیا. ڈنکے کی چوٹ پر دیا کیونکہ اس وقت حکومت پاکستان خود اس جہاد کی حمایت کر رہی تھی. لہٰذا اس وقت وہ ساتھ دینا مملکت پاکستان کی مخالفت نہیں تھا.قربانیوں اور شہادتوں کے کے اعتراف سے نظریں بچا کر ڈالر کے طعنے دیے گئے. اگر ڈالرز ملے تو اس کا طعنہ سب کو دیا جانا چاہیے، فوج کو بھی اور حکمرانوں کو بھی..اور بہت سے اداروں کو بھی..اور اگر وہ ڈالرز ملے تو وہ نظر کیوں نہیں اتے؟ جماعت کے ذمہ داران کی زمینیں، جائدادیں؟امریکہ میں فلیٹس، محلات، کوئی سمر ہاؤس؟ کوئی ثبوت؟ جبکہ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے اس وقت ماسکو سے بھی تمغے اور روبل سمیٹے تھے اور بعد میں بھی امریکی سرپرستی میں چلنے والے اداروں کے عہدے، امداد، اور اعزازات سے مستفید ہوتے رہے.
نظر تو یہ آتا ہے کہ آج بھی یہ دیوانی جماعت “گو امریکہ گو” کا بے وقوفانہ نعرہ لگاتی پھرتی ہے، اپنا مذاق بھی بنواتی ہے اور اقتدار کے ایوانوں سے بھی محروم رکھی جاتی ہے،…آج بھی جب کہ یہ طاقت دنیا پر حکمرانی کرتی ہے، اور لوگوں کے اخبارات، چینلز اور ادارے اس کی امداد سے چلتے ہیں، دنیا میں حکومتیں ان کی مرضی سے اتی ہیں. اور آج بھی فوجی اور جمہوری حکمران اور سیاست دان اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے ان کی در کی گدائی کرتے ہیں.یہ بے دیوانے ان سے لڑائی مول لیتے ہے . جس کشمیر کو قائد اعظم نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا.غاصبانہ قبضے میں گھرے جہاں کے لوگ پاکستان سے مدد کی اس لئے آزادی کی جدوجہد کرتے رہے، جس سے محبت کے ترانے تی وی چینلز چلاتے رہے، اس کے لئے بھی یہی جماعت اپنی جانوں کے نذرانے دیتی رہی یہاں تک کہ پاکستان چلانے والوں نے اپنے راستے ہی تبدیل کر لئے. اور جماعت کو کیا ملا؟ آزاد کشمیر کی کچھ وزارتوں میں ہی حصہ مل جاتا ، یا کسی کمیٹی کی سربراہی؟زبانی کلامی تو جماعت اسلامی کے “ڈالر اور فائدے” سمیٹنے کے قصے بہت سنتے ہیں.
جماعت اسلامی کو یہ سب کرنا چاہیے تھا یا نہیں؟ یہ ایک علیحدہ بحث ہے، اور اس کی بہت سی وجوہات میں ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دور “مطلق سچائی ” پر یقین رکھنے کا نہیں ہے. یہاں “زمینی حقائق” کو دیکھا جاتا ہے اور دیکھا جانا چاہیے. مطلق سچائی صرف کتابوں میں اچھی لگتی ہے، اور بچوں کو پڑھائی جاتی ہے. مگر نکتہ یہاں یہ ہے کہ پہلے ایک بات طے کر لی جاے کہ اسلام اور پاکستان کی محبت اور اس کے لئے کوشش کوئی چیز ہے یا نہیں؟اور یہ کہ جماعت اسلامی سے بڑھ کر کوئی جماعت ہے جو اس محبت کا عملی ثبوت پیش کر سکے.لسانی اور علاقائی عصبیتوں کے بل بوتے پر سیاست کرنے والی جماعتیں اور پارٹیاں کس منہ سے جماعت اسلامی پر الزام لگاتی ہیں؟جس نے ہمیشہ ہر قسم کی عصبیت سے بلند ہو کر ہمیشہ صرف دین و وطن کے لئے جدوجہد کی ہے.
انفارمیشن کے سیلاب اور ڈس انفارمیشن کے طوفان کے اس دور کا المیہ یہ ہے کہ آج لوگ خود سے تحقیق کرنے کے لئے وقت نہیں پاتے. تاریخ کا مطالعہ بہت بور کردینے والی چیز ہے، اس میں محنت بھی لگتی ہے، اور بہت سی باتیں اپنے بیان کردہ الزامات کے خلاف جاتی بھی نظر اتی ہیں. لہٰذا مکھی پر مکھی مارنا ہی سب سے اچھا نسخہ ہے. جماعت اسلامی کی خدمات کا تذکرہ ایک طرف کہ ان کو جس سے اجر کی امید ہے، وہاں یہ رائیگاں نہیں جاے گا ان شا الله، لیکن سقوط ڈھاکہ کے حقائق سے نظریں چرانا، اس پر مٹی ڈالنا، اور اس کو چھپانے کا سب سے بڑا نقصان خود سر زمین پاکستان کو پہنچتا ہے. ہمارے نا خداؤں نے اس سانحے کے اسباب، حقایق، حالات اور نتایج کو چھپا لیا، خاموشی اختیار کی اور سمجھا کہ ہم بچ گئے..نتیجہ یہ ہے کہ آج دنیا کے سامنے خود پاکستان کا مقدمہ کمزور ہو گیا. پاکستان ایک غاصب تھا، جس سے مظلوموں نے آزادی حاصل کی. ساری دنیا کا یہی نقطہ نظر ریکارڈ پر موجود ہے، جو ہمارا مذاق اڑاتا ہے، منہ چڑاتا ہے، تذلیل کرتا ہے،مگر پاکستان کا مقدمہ لڑنے والا کوئی نہیں. سقوط ڈھاکہ کو ایک لا یعنی بحث کہنے والے اور جماعت اسلامی کو لکیر پیٹنے کا الزام دینے والے، بلوچستان میں دہکاے گئے جہنم سے نظریں نہ چرائیں.جو قومیں ماضی سے سبق سیکھنے کو تیار نہ ہوں، ان کے لئے کسی قسم کے حادثات غیر متوقع نہیں ہونے چاہییں. الله پاکستان کی حفاظت کرے. امین

سقوط ڈھاکہ، جماعت اسلامی اور پاکستان” ایک تبصرہ

  1. موجودہ حالات کے تناظر میں ایک اچھی تحریر ہے جو سوچنے ٠کو مختلف جہتیں دے رہی ہے .سقوط ڈھاکہ کے اسباب اور واقعات تک رسائی نئی نسل کا حق ہے اسے یہ حق دینا چاہے

اپنا تبصرہ بھیجیں