عمرِ ثالث کہاں سے لائیں – عالیہ زاہد بھٹی




نئے سال کا پہلا دن سوشل میڈیا کا زمانہ ……… کہیں سال نو کی مبارکباد ، کہیں غمِ حسین اور کہیں عمر بن خطاب کی شہادت کی گونج ! میں بھی سب کے اسٹیٹس اور ڈی پیز سے فیض یاب ہونے کے بعد اسی کشمکش میں غلطاں سو گئی کہ میں ان سب کو مناؤں یا ان میں سے کسی ایک کو لیکر اسے دوسرے سے ممتاز قرار دینے کی کوشش کروں ؟
کہتے ہیں کہ جس سوچ میں بندہ سوتا ہے اسی حوالے سے اس کے خواب آتے ہیں . انہیں خواب کہیں یا سوچ بہرحال کچھ تو ہے کہ جو حکم ربی سے دلوں کی بنجر زمینوں پر زرخیز سوتوں کو نمو ملتی ہے . وقت کے آبگینوں کے شفاف چہروں پر عمیق جال بُنے جاتے ہیں . پھر نہ کچھ نیا اور پرانا ہوتا ہے نہ دن مہینہ اور سال ہوتا ہے اور نہ ہی عمر وحسین کے سودوزیاں کا حساب کتاب ہوتا ہے . بس جو بھی ہوتا ہے اسے “صبغت اللہ” کا نام دیا جاتا ہے . وہ صبغت اللہ کہ جو صفا و مروہ کی پہاڑیوں سے بھی کہیں پہلے ہابیل وقابیل کی لڑائی میں ہابیل کے دل سے اک کوک کی صورت نکلا اور چہار دانگ عالم میں پھیل گیا .
وہ جو نوح کو اولاد سے بے نیاز کرکے رب کے قریب لے گیا ……… وہ جو یعقوب کی آنکھوں سے نیر بن کر بہا تو یوسف کی راہ چمک اٹھی ………. وہ جو یوسف کی جوانی کو چاند سے بھی زیادہ شفاف بنا گیا ………. وہ جو عیسیٰ ابن مریم کی بے کسی کے لئے مسیحا بن گیا
وہ جو ابراھیم کے لئے دہکائ گئ آگ کو گلزار بنا گیا ………. اور وہی رنگ غارحرا سے ابھرا ، غارثور میں رنگ دکھاتا ہوا شعب ابی طالب کی گھاٹی سے گزرتا ہوا طائف کی گھاٹی میں زخمی ہو کر بھی بدروحنین کے شہداء کے چہروں پر رنگ بکھیر کر مکہ کے فتح پر رحم کی صورت چھا گیا اور پھر آمنہ کے لعل کے جگر پاروں کی شہادت کی خبر دے فاطمہ کی گود کو قیامت تک کے لئے زرخیز کر گیا . جو دشمن کہتے تھے کہ
“تمہارا نام ونشان مٹا دیں گے”اسی اللہ کے رنگ نے ابوبکر وعمر،عثمان وعلی کے لہو سے نام ونصب کی آبیاری کچھ اس طرح سے کی کہ رہتی دنیا تک جو کہے گا …….. “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم”
وہ اس شہادت کی تاریخ رقم کرتا چلا جائے گا کہ جس کے سوتے قرنوں سے پھوٹ کر اسلام کے یکسو اتباع کرنے والے مسلمانوں کو اسلام کا اور نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کا فرزند بنا دیتے ہیں . وہ فرزندان توحید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اک جاں نثار کے شاہکار ہیں اس طرح ہر نیا اسلامی سال بھی ہمارا ہے ابوبکر بھی ہمارے ہیں،عمر بھی ہمارے ہیں عثمان وعلی بھی ہمارے ہیں اور ان سب کے جگر سے جڑے فاطمہ کے دونوں لعل ہی نہیں پوری اولاد ہی ، سب ہمارے ہیں . میری ڈی پی ، میرا اسٹیٹس بہت چھوٹا پڑ گیا ! میرے دین کی سچائی اور اس سچائی کی گواہی کو پھیلانے میں ہاں میرے دل میں سما گیا ہے کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کو آج 1442 سال ہوچکے .
میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کو منتوں سے دعاؤں میں مانگا ہرنئے ہجری سال کے پہلے دن اسی عمر بن خطاب کی شہادت کی گونج مجھے اور میرے حکمرانوں کے لئے پیغام لاتی ہے کہ عمر بن خطاب کے بعد،عمر ثانی یعنی عمر بن عبدالعزیز بھی وقت نے دیکھا اب تمہی کہو اس گزرتے وقت میں عمرِ ثالث کہاں سے لائیں؟ عمر گزر رہی ہے بے ثمر وہ کربلا میں جو خونِ حسین گرا تھا اس کے خشک ہوتے لہو کی مہک پکارتی ہے کہ حسین ابنِ علی نے عمر بن کر حق کو پھیلا دیا کہ جس طرح عمر بن خطاب کے اسلام لانے کے بعد کھل کر اذان دی گئی اسی طرح حسین ابنِ علی کی شہادت کے بعد شہادتِ حق بآ وازِ بلند دی جانے لگی . وہی شہادتِ حق آج سراپا سوال ہے کہ
کوئی عمرِ ثالث بن جائے کہ میرے شہر میں بہت تیرگی ہے.
ارے وہ عمر بن خطاب تو اک بچے کا رونا سہہ نہ سکے آج میری دھرتی کے سینے پر ایلان کردی جیسے ہزاروں بچوں کی لاشیں ہیں
میرے کشمیر وفلسطین میں ہر طرف عمر،عمر کی پکار ہے طلب ہے . ارے میرے اپنے پاکستان کے سود خور بھیڑیے حکمرانوں کے ہاتھوں عوام کی زندگی تنگ ہے
جاؤ کوئی عمر ِ ثالث تو لاؤ……!!!!!!
میرے پاکستان میں چینی چور ، آٹا چور مافیا کی دراندازی کرنے والے بھیڑیوں کے ریوڑ کی سرکوبی کے لئے عمر ثالث کی طلب ہے . ہر سمت باطل تبدیلی کے نعروں کی گونج کو عمرِ ثالث کی للکار درکا ہے . اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تسلیم کرنے والے نام نہاد حکمرانوں کے لئے عمر بن خطاب کے جانشین کی تلوار درکار ہے
ارے خونِ حسین کے متوالو ! میری مٹی کے ہر اک ذرے کو . حسین ابنِ علی جیسی شہادت حق کی طلب ہے ……. آؤ غازیوں ، مجاہدوں دعوت دین کا حق ادا کرو ، نئے سال کی پہلی ساعتوں میں عہد رفتہ کو آواز دو عمر ثالث کی دعا کرو!

اپنا تبصرہ بھیجیں