الخدمت کراچی کی خدمت کے لیے ہمیشہ کوشاں – بنت شیروانی




کراچی میں بارشوں کے بعد چمکتی ہوئی ……. دھوپ نکلی تو ذرا سکھ کا سانس لیا ۔ لیکن پھر معلوم ہوا کہ گلشن حدید وغیرہ کےعلاقوں میں تیز بارش ہورہی ہے ۔ اور پھر نظروں کے سامنے وہ ڈوبتی گاڑیاں آئیں اور محسوس ہوا کہ اپنا دل بھی ڈوبے جارہا ہے ۔ اور پھر لمحوں میں ہی جب کسی نے وہ ویڈیوز بھیجیں .
جس میں لوگ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں تو کئی شہروں میں پاک فوج کے جوان افراد کو پانی میں سے نکال رہے ہیں ۔ تو کسی کا ریسٹورینٹ تھا اور ان کی طرف سے پوسٹر آیا ہوا تھا کہ بن کباب تو رول پراٹھا اور پانی ہماری دکان سے بارش میں پھنسے افراد مفت میں لے جائیں ۔ اور کہ سارے افراد اپنی مدد آپ کے تحت ایک دوسرے کی پھنسی گاڑیوں کو نکالنے میں مصروف نظر آۓ ۔ تو ہر طرح سے ایک فرد کی دوسرے انسان کی مدد کرنے کی ۔ اور اس کے ساتھ ہی ان گنت تصویریں الخدمت کے رضاکاروں کی ۔ اور پھر میرا ان تمام افراد کو سلام کرنے کو دل کیا۔اور ہر وہ فرد جو دوسرے کی جسمانی یا مالی لحاظ سے مدد کر رہا تھا وہ کردار میں بہت بڑا لگا ۔ مجھے وہ ایک گھر کی عورت بھی بہت عظیم لگی جو ایک ٹرے چاول کی پڑوس میں اسلۓ بھجوا رہی تھی کہ ان کے گھر پانی آگیا تھا۔
دل تو کیا ان الخدمت کے رضاکاروں سے تو لوگوں کی مدد کرنے والے عمومی شہریوں سے بھی پوچھوں کہ کیا دل نہیں کر رہا . اس برستی بارش میں پکوڑے کھانے کو تو کیفے پیالہ کی چاۓ پینے کو ؟؟؟؟ من تو کر رہا ہوگا نا کہ آرام کر لوں ؟؟؟؟ باہر نکلتے وقت ماں تو بہن یا بیوی تو بیٹی کسی نے محبت سے کہا ہوگا کہ نہ جاؤ باہر اس تیز بارش میں کہ کہیں بخار نہ ہوجاۓ ؟؟؟؟ تو جسم نے بھی درد کی شکایت کی ہوگی ؟؟؟؟؟ لیکن تم لوگ اپنے ہم وطنوں کی مدد کے لۓ اپنا آرام ، نیند کو قربان کر کے سڑکوں پر لوگوں کی گاڑیاں نکالنے میں تو کسی کو کھانا بانٹنے میں مصروف ہو۔اپنی سی کوشش کر کے انھیں پریشانیوں سے نکالنے میں اپنا تن من دھن ایک کر رہے ہو۔ اور اس وقت اس پاکستان بلخصوص کراچی کے ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف کو بھی سلام کرنے کا دل کیا کہ تم لوگ بھی اپنی اپنی جگہ مزید کام کر رہے ہو۔
اور ہر وہ شخص جس نے اس مشکل وقت میں دوسروں کے لۓ کچھ اچھا کیا ، اپنے پاکستانیوں کی مدد کی اس کے لۓ دل سے دعا نکلی کہ اللہ ہر اس شخص کے لۓ ڈھیروں آسانیاں پیدا کرے ، ان کے ہر عمل کو ریا کاری و شرک خفی سے بچاتے ہوۓ اپنے لۓ قبول کرے اور ان لوگوں سے راضی ہو جاۓ۔ کہ یہ لوگ اپنے حصہ کا کام کر رہے ہیں اور امید کی کرن ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں