بدترین پیرنٹنگ کا نتیجہ – محمد اسعد الدین




کراچی کا ستیاناس ہوگیا ۔۔۔۔۔ واٹ لگ گئی ۔۔۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہے ، اس شہر کا بیڑا غرق کیوں ہوا، کس نے کیا ؟ رہنے دیجئے مجھے معلوم ہے آپ کیا جواب دیں گے ۔۔۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ بدترین پیرنٹس اور گھٹیا پیرنٹنگ نے کراچی کی ایسی تیسی کر دی ……. خراب پیرنٹس اور گھٹیا پیرنٹنگ سے شہر کی بربادی ؟؟ جی بالکل ایسا ہی ہوا ہے
کراچی کے سینے پر چڑھ کر ، یا کراچی سے دور رہ کر حکمرانی کرنے والے ہوں ، لگتا ہے کسی کے پیرنٹس نے ، اسکول ، کالج ، یونیورسٹی کے کسی ٹیچرز نے ان بلدیاتی ، صوبائی اور وفاقی حکمرانوں کو بچپن میں نہیں بتایا ہوگا کہ : اقتدار امانت ہوتا ہے ، باپ کی جاگیر نہیں ، معلوم ہوتا ہے انہیں کسی نے نہیں سکھایا ہوگا کہ نالے سیوریج کی نکاسی کے لیے ہوتے ہیں قبضے کے لیے نہیں ، انہیں کسی نے نہیں سمجھایا ہوگا کہ خالی پلاٹ حرام کا مال نہیں ہوتا ، اسے خالی دیکھ کر اس پر فلیٹ ، پورشن نہیں بنائے جاتے ، یقین ہے کہ ان حکمرانوں کو کم عمری میں کسی نے نہیں پڑھایا ہوگا کہ سرکاری فنڈز عوام پر خرچ کرنے کے لیے ہوتے ہیں ، پاکستان سے باہر جائیداد خریدنے کے لیے نہیں ، یہ بھی اندازہ ہے کہ گزبھر لمبی زبان نکال کر دعوے کرنے والے حکمرانوں کے ماں باپ نے یہ تربیت نہیں دی ہوگی کہ بیٹا مال بے شک جتنا بنا لیا جائے ، قبر میں خالی ہاتھ جانا پڑتا ہے ۔
بچپن میں ڈھنگ کی پیرنٹنگ نہ ہونے کا نتیجہ کیا نکلا ؟؟ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ماضی کے گمنام بچے آج کے گدھ حکمران بن گئے ، اور شہر کو مردار سمجھ کر چاروں طرف سے نوچنے لگے اور ماں باپ کا منہ کالا کروانے کا چلتا پھرتا اشتہار بن گئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں