میرے 66 سال




تحریر :عطااللہ حسینی

پتہ هی نہیں چلا کیسے 66 سال هو گئے پھر پلٹ کر دیکها تو سفر لمبا اور طویل تها کتنے شہداء کا لہو اس میں شامل ہوآ کتنے لوگوں نے اپنی جوانی اور صلاحیتوں سے مجهے آج اس مقام تک لاکھڑا کیا هے کہ آج شاید هی کوئی شہر یا قصبہ هو جہاں میری آغوش میں پلنے والے لوگ نہ هو .ہاں اتنے آسان نہ تهے یہ 66 سال بس میرے بچوں نے مجھے پتہ نهیں چلنے دیا اور یہی کہا کہ وہ اس راه میں سب کچھ قربان کر کے بهی میرا احسان نہیں اتر سکتے پر اللہُ گواہ هے کہ میں نے کبهی یہ نهیں چاہا کہ میرے لخت جگر میرے لئے یوں کٹ مریں، اپنے کیرئیر پر مجھ کو ترجیح دیں پر یہ تو مخالفین نے اپنی ناکامیوں کو دیکھتے هوئے میرے بچوں کی راہوں میں کانٹے بچهائے .
اللہ سے دعا هے جو راہ حق میں مارے گئے ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور جن لوگوں نے اپنی دنیا پر مجھ کو فوقیت دی انهیں اس دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا فرمائے.
هاں یہ ضرور هے کچھ وقتوں میں میں نےخود ان سے مانگا جب بات اس نبی پاک صل اللہ علیہ و سلم کی هوگی جس پر تمام مسلمانوں کے ماں باپ قربان تو میں نے کہا سب کچھ چھوڑ کر پہلے ختم نبوت کے دشمنوں سے نمٹو جو تعلیمی اداروں میں عام اور سیدهےسادے مسلمان طالب علموں کو مستقبل کا لالچ دے کر اپنے همنوا بنانے میں لگے تهے جب تک عام مسلمانوں میں ان کو مسلمانوں کا ایک فرقہ ہی سمجھا جاتا تها الحمدللہ لبیک کہنے کو اس پر صرف میرے بچے هی نہیں ساری طلبہ برادری کهڑی هو گئی اور ایک سانحہ میں دشمنانِ ختم نبوت نے کئی طلباوں کی جانیں لے لی.
پهر جب اس ملک کو دو ٹکڑے کرنے کےلئے بیرونی سازشیں شروع هوئی تو میں نے ان سے کہا تمہاری مرضی چاہو تو خاموش رهو آخر هو تو تم طلبہ ۔۔۔۔ پر میرے بچوں نے اس موقع پر بهی میرا سر فخر سے بلند کر دیا اور اس پاک وطن پر ہزاروں کی تعداد میں البدر کی صورت جانیں دے دی .اور پھر جب جہاد افغنستان کا مرحلہ آیا تو میری درس گاه سے جو انهیں جهاد کا سبق ملا تها تو اس بار مجهے کچھ کہنا نہ پڑا اور کچھ میرے بیٹوں نے جہاد افغانستان میں حصہ لے کر اس امت کو اس کا بهولا هوا سبق یاد دلا دیا.
ہاں کشمیر کے جہاد کے لئے میں نے اسے اپنے اک لائق بیٹے سراج الحق کے ذریعے پکارا تو سرزمین پاکستان نے ایسے ایسے شیروں کو میدان عمل میں اتارا کہ اتنی کم عمری کے اتنے جانباز برصغیر کی تاریخ میں نہیں ملتے کچھ ایسے بهی تهے جن کی شہادتوں کے وقت میرا کلیجہ منہ کو آیا جو اپنے هی لوگوں کو ان کے رب سے ملانے ان تک دعوت دین پہچانے کے لیے سرگرم تهے حلانکہ وه ان کے محسن تهے وه ان کو بتاتے تھے کمیونزم سراسر دین سے بغاوت هے عصبیت اس ملک کے نظریہ کو کھوکھلا کرنے کی سازش ہے فرقہ پرستی اسلام کو ٹکروں میں بنٹنے کا عمل.
ذکر تو ان لوگوں کا بهی کرنے کو هے جن کو میں نے قرآن سے قریب کیا اور پھر وه اسکا چلتا پھرتا نمونہ بن گئے اور ان کا بهی جن کو میں نے بڑی محنت سے پالا جن کے لئے ناجانے کتنے لوگوں نے اپنے دن رات ایک کئے جن کی تربیت کے لئے ایک بڑی رقوم خرچ هوئی اور آج وه اپنی دنیا میں گم هیں پر آج کا دن میں نے شہیدوں کے نام کیا هے اس لئے ان کا ذکر پهر کبھی .اور هاں آج میں جب 66 سال کی هو گئی هوں تو بوڑهی نهیں هو گئی بلکہ اجتماعییت تو تحریکوں سے توانا رهتی هو اور جس کے آج لاکهوں جوان بیٹوں هوں اس کون بوڑها کہہ سکتا هے

اپنا تبصرہ بھیجیں