اے مظلوم عورت ! ہمارے پاس کہنے کو یہی بچا ہے – زبیر منصوری




قصور تو اس خاتون کا ہی ہوا نا ؟ اسے پتہ تھا پولس آپس میں دست و گریبان ہے . حکومت میرٹ کی دھجیاں بکھیر رہی ہے . لاہور کا نیا چیف وہی ہے ، جسے خود تحریک انصاف کی حکومت کا ترقی دینے والا بورڈ اخلاقی و مالی طور پر کرپٹ اور داغدار کردار کا مالک قرار دے چکا ہے . ایسے میں یہ خاتون گھر سے نکلی ہی کیوں ؟ وہ بھی دو بچوں کو ساتھ لے کر پھر اس رش والی موٹروے پر رکی کیوں ؟
پولس آئی تو تھانے کی حدود تو بڑا مسئلہ ہے نا پھر ……. اور پولس فارغ بیٹھی ہے کہ فورا آجاتی ؟ کچھ گھنٹے تو لگتے ہیں . اور پھر اگر کچھ غلط ہو گیا تو پولس کو تکلیف دینے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ سانحہ ماڈل ٹاون اور ساہیوال سمیت کہاں اور کیا ہوا ہے …….جو یہاں کچھ ہو جاتا ؟ بلا وجہ سب کو پریشان کیا ۔۔۔۔! پچھلے والے تو برے تھے تبھی تو تمہیں لائے تھے . لانے والے تم نے کہا تھا ، سارے منصوبے تیار پڑے ہیں . ٹیم ریڈی ہے بس ایک بار وزیراعظم بنا دو …..! 100 دن میں یہ کر دیں گے۔ مگر تمہارے دو سال گزر گئے . تمہاری پولس ریفارم کمیٹی سے تمہارا سابق آئی جی اور اس کمیٹی کا سربراہ ناصر درانی 20 دن بعد استعفی دے جاتا ہے اور اب تک وہ ریفارمز کہیں ، مرکھپ گئیں تم ملک گیر ریفارمز کے لئے . ڈاکٹر عشرت حسین کے کام کی کہانیاں سناتے رہے سنتے ہیں کہ اس کیبنٹ اجلاس میں اب شفقت محمود اس کے ہیڈ بنا دئیے گئے . انہوں نے کیا کیا ؟ وہ کہاں گیا؟ کچھ خبر نہیں ۔۔۔
اور ہاں ! اے مظلوم عورت ، خبر دار جو تم نے اس حاکم وقت کو کچھ کہا جو کہتا تھا کہ جس قتل کا قاتل پتہ نہ چلے ……. اس کا ذمہ دار وزیراعظم ہوتا ہے . تم نے آج کے وزیراعظم کی شان میں گستاخی کی تو “بغض عمران” کے تیروں سے چھلنی کر دی جاؤ گی کہ اب ہمارے ان بھائیوں کے پاس کہنے کو بس یہی بچا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں