شرعی سزائیں اشد ضرورت – ثمن عاصم




میں اسلام کےنام پر حاصل ہونے والے اس ملک کی باسی ہوں ، جہاں تلاش کرنے پر بھی اسلام نظر نہیں آرہا ۔ میں ریاست مدینہ ثانی کے اس دعویدار کی رعایا ہوں جہاں ایک عورت سفر پر اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ نکلتی ہے تو ہوس کے پجاری، وحشی درندے اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا لیتے ہیں ۔

میں اس گلے سڑے معاشرے کا حصہ ہوں ……جہاں اس مظلوم عورت کو انصاف کی فراہمی کے بجائے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نام نہاد ٹھیکیدار یہ کہتے ہیں کہ یہ راستہ سفر کے لیے کیوں منتخب کیا ؟؟؟ یہ وہی معاشرہ ہے جہاں ہر سال عورتوں کے حقوق کے لئے ایک مخصوص طبقہ گھروں سےنکلتا ہے سڑکوں پر آتا ہے اور یہ محسوس ہوتا ہےکہ یہ طبقہ تمام مظلومی عورتوں کا حق دلوا کر ہی رہے گا ۔ مگر ہوتا کچھ یوں ہے کہ جب کوئی حقیقت میں مظلوم عورت دادرسی چاہتی ہے تو یہ طبقہ جو عورتوں کے حقوق کا علمبردار بنتا ہے، یہ حکمران جو ریاست مدینہ ثانی کے نام پر اقتدارآئے تھے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کرپٹ افسران ایک ہو جاتے ہیں اور انصاف کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں ۔ کوئی کہتا ہے راستہ غلط منتخب کیا، کوئی کہتا ہے انصاف کے نام پر مجرم کو سر عام سزا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ کوئی کہتا ہے کہ اسلام کی سزائیں سنگدلانہ ہیں ۔

انصاف کے علمبردار اور امن کے ٹھیکیداروں سے کوئی سوال تو کرے ذرا؟ راستہ غلط تھا تو سہی راستہ تعمیر کیوں نہ کرایا؟ اس عورت کااکیلے سفر کرنا گرچہ غلط ہے مگر کیا ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ وہ ہر شہری کو جان، مال اور عزت کا تحفظ دے؟؟؟ان سے پوچھو سر عام جرم کی سزا سر عام کیوں نہ دی جائے؟ ان سے سوال اٹھایا جائے کہ اسلام کی سزائیں اگر سنگدلانہ محسوس ہوتی ہیں تو ان کا تعلق کس مذہب سے ہے جس کی سزائیں سنگ دلانہ نہیں ۔ سنگدل مجرم کو سنگ دلانہ سزا ہی ملنا چاہئے تاکہ آئندہ کوئی سنگدل پیدا نہ ہو۔ وہ مذہب جو عالمگیر مذہب ہے جو ہر انسان کےلئے ضابطہ حیات ہے۔کیسے ممکن ہے کہ مظلوم کی داد رسی نہ کرے؟؟ مذہب تو داد رسی کرتا ہے ایسے مجرموں کے لیے سزائیں بھی طے کرتا ہےمگر افسوس جب ان کے نفاذ کی بات آتی ہے تو مولوی کو منہ بھر بھر کر برا کہنے والا طبقہ لفظ مولانا کی تضحیک کرنے والا طبقہ مجرموں کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے ۔ ننھی معصوم بچیوں کا ریپ کر کے انھیں قتل کر دیا جا تا ہے اور یہ طبقہ کہتا ہے کہ مجرم کو سرعام سزا نہ دو۔

ان میں سے کچھ عقل کے اندھے دلوں کے سیاہ لوگ کہتے ہیں کہ ان مسائل کا حل قبحہ خانوں کی حکومتی سرپرستی میں ہے۔ان بے دین، بےحس اور بے شرم لوگوں کو ہر حل قبول ہے سوائے نفاذِ شریعت کے ۔ یقین کریں آپ لاکھ سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹتے رہیں سانپ بار بار نکلتے رہیں گے اس کا حل صرف سانپ کا سر کچلنا ہی ہے۔اور ان تمام مسائل کا حل صرف اسلام کی بتائی ہوئی سزاؤں کانفاذ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں