اُٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا – عالیہ زاہد بھٹی




عرصہ گزر گیا میں نے گھر میں کھانا نہیں پکایا ، کبھی خیال آتا ہے کہ باہر کا کھانا کھا کر طبیعت مسلسل خراب رہتی ہے …….. مگر گھر میں کھانا بنانے کے لئے چولہا جلایا نہیں جاتا ” یہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے ایک متاثر کی ماں کی روداد تھی ، جو اخبار میں پڑھی اس کا کہنا تھا کہ اس کا بیٹا جب بھی گھر آتا دروازے سے ہی صدا لگاتا کہ “کھانا پک گیا؟”

اس دن بھی جب یہ سانحہ ہوا اس کے لئے سالن تیار تھا اور چاول دم پر جب معلوم ہوا اور میں دوڑتی ہوئی فیکٹری گئی ، جہاں حادثہ ہو چکا تھا . میں یہ سب پڑھ کر سوچ میں پڑ گئی کہ حادثے تو روز ہوتے ہیں منجانب اللہ ہی ہوتے ہیں مگر جن حادثوں کو شیطان کے پجاری ہوا دیتے ہیں وہ تمام حادثے انصاف کے علمبرداروں کی طرف دیکھا کرتے ہیں کہ کون ہے جو اس جرم ضعیفی کی سزا کی پاداش میں ہمارے لئے بولے گا ، کون ہے جو ہمارے خون کا حساب لے گا . اللہ خود بدلہ لینے پر قادر ہے وہ سزا دینے پر قادر ہے مگر یہ مجھ جیسے افراد کا امتحان ہے کہ جب صدا کا قحط پڑے گا تو کون بولے گا . یہ جملے پڑھ کر میں جو اپنے عبداللہ کے لئے فرنچ فرئز بنانے کچن کا رخ کرنے لگی تھی کانپ کر رہ گئی . میرے قدم لرز رہے تھے میرا دل مجھے جھنجوڑ رہا تھا کہ

“اے اُمِِّ عبداللہ! نہ تو تم خاص ہو نہ ہی تمہارا عبداللہ انوکھا ہے اس سے پہلے کہ حق کے لئے نہ بولنے نہ اٹھنے کی سزا میں تمہیں یا تمہارے عبداللہ کو درد دیا جائے اٹھو نکلو ، بولو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں جل کر خاکستر ہو جانے والوں اور ان کی ماؤں کے لئے،اٹھو آگے بڑھو کوئی پکار رہا ہے شاہراہ قائدین پر صدا لگا رہا ہے
“کونو انصار اللہ؟؟؟؟” کہہ دو،کہہ دو وہاں جاکر کہ “نحنُ انصار اللہ”

وہ دیکھو وہ جو احد کی پہاڑی پر چڑھ کر صدائے حق بلند کرنے والے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کرنے والے شاہراہ قائدین پر تمہارا انتظار کر رہے ہیں جاؤ جاکر ان کے ساتھ مل کر آواز اٹھاؤ . کے الیکٹرک کے مظالم کا شکار ہو کر مرنے والوں کے لئے ……. آواز بلند کرو،اووربلنگ اور گیس،بجلی وپانی بند کر نے والے یزیدوں کے خلاف ………. آواز بلند کرو مروہ،زینب ،کائنات اور موٹر وے حادثے کا شکار ہونے والی اس بے بس عورت کے لئے جسے روندا گیا . آواز بلند کرو اس ظالم سلطان اور اس کے حواریوں خلاف کہ جن کے کتے اور گھوڑے تک منرل واٹر پیتے ہیں اور کراچی کی عوام کو جو نالوں میں ڈبو کر رکھ دیتے ہیں.

اٹھو ! ان کے خلاف جو کراچی میں زندگی مہنگی اور موت سستی کرچکے . اٹھو ……! ان کے خلاف آواز بلند کرو جن کی درندگی کا شکار ہو کر پورا کراچی ڈوب گیا . اٹھو ، اٹھو ناں اس شہر کے ہر عبداللہ اور ام عبداللہ تمہیں اپنی حفاظت و حمایت کے لئے پکار رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں