انتظار ابابیل کب تک – افشاں نوید




27 ستمبر ، اٹھیے اہلیان کراچی ……. انتظار ابابیل کب تک ….. اللہ کا یہ وعدہ نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہونے کی حیثیت میں ہمارے سیاسی اور سماجی مسائل خود حل کرے گا۔ نہ قرآن ارسطو کی”پالیٹکس” کی طرح کوئی سیاسی کتاب ہے۔ ایک واضح بات سورہ الرعد میں کہ دی گئی کہ :” خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جس کو اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو۔”

لوگ حالاتِ زندگی بدلنے کی آرزو میں ہیں۔ کشمیر و فلسطین میں مائیں مجاھد بیٹے تیار کرکے آزادی کی تحریک کی مشعل روشن کیے ہوئے ہیں۔ کچھ پانے کیلئے کچھ قربان کرنا پڑتا ہے چاہے انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی۔ دنیا کے تاریخی انقلاب دھائی دینے سے نہیں آئے۔ اسلام ہجرت کا تصور دیتا ہے کہ مسکینوں کی طرح سسک سسک کر مت جیو ……… کوچ کرجاؤ وقار کے ساتھ اگر تمہارے دین وایمان وبقا کو خطرہ لاحق ہو۔ کئی عشروں سے اہلیان کراچی حقوق کی جنگ لڑتے لڑتے تھک چکے ہیں۔اب ان کی بقا کو خطرات لاحق ہیں۔ کوئی نہیں سوچتا کہ نوجوان کیوں ملک میں رھنے پر تیار نہیں۔ جب ان کے پاس بنیادی ضروریات نہ ہوں تو وہ پیارے دیس کو چھوڑ کر پرائی جنتوں کا رخ کرتے ہیں۔ جہاں سخت محنت کرتے ہیں مگر وہاں ریاست ماں کے جیسی ہے ۔ ہماری ریاست گروی ہے،غیر محفوظ ہاتھوں میں
ہمیں ابابیلوں کا انتظار نہیں کرنا .

خود اٹھنا ہے …….. کچھ خاص کرنا ہے . گھر سے نکلیں ۔ کچھ قربانی دیں ……. ہمارے اپنے حقوق کا سوال ہے۔ اس شہر کو اس کے حقیقی خیر خواہوں کے حوالے کریں۔ اٹھنے کا موقع بھی قدرت بار بار نہیں دیتی ، پھر وہ اور لوگ لے آتی ہے جو ہم سے بہتر ہوتے ہیں۔ اس لیے اٹھئے کہ گردش دوراں پکار رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں