شہریار آفریدی سے وفاقی وزیر مملکت کا عہدہ واپس لے لیا گیا




اسلام آباد: وفاقی وزیر مملکت شہریارآفریدی سے وزیرمملکت کا عہدہ واپس لے لیا گیا ہے۔

اسکولوں و کالجوں سمیت دیگر اداروں میں منشیات عام ہے۔ شہریار آفریدی کا اعتراف

ہم نیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن نے اس ضمن میں باقاعدہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے شہر یار آفریدی وزارت سیفران اور نار کوٹکس کے وفاقی وزیر مملکت تھے۔

ہم نیوز کے مطابق وزیر مملکت کا عہدہ واپس لیے جانے کے بعد شہر یار آفریدی اب کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہیں گے۔

چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی نے کچھ عرصہ قبل ہم نیوز کے پروگرام ’صبح سے آگے‘ میں کہا تھا کہ پارٹی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہناتھا کہ کورونا نے پاکستان کولپیٹ میں لے لیا ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ جب مجھے کورونا ہوا تو ادرک اور شہد کا قہوہ پیتا رہا۔

مدرسے کے ایک عالم نے طلبہ سے منشیات استعمال کرنے کا کہا، شہریار افریدی

شہر یار آفریدی نے کہا تھا کہ کورونا کے باعث میں تکلیف میں مبتلا رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے مریض کو وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ کورونا کے مریضوں سے تعصب نہیں برتنا چاہیے بلکہ ان سے اچھا سلوک کریں۔

پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے شہریار آفریدی نے کہا تھا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کی اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ انہوں ںے کہا تھا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ میں غریب کا احساس کرنے کی بات کروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد ہر بات کا وفاق کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔

فرقہ واریت کی روک تھام کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے، شہریار آفریدی

انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان حق کا نام ہے جو مافیا کے خلاف سرگرم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہربات کے لیے وزیراعظم کو قصور وار ٹھہرانا افسوسناک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں