صدارتی مباحثہ: جوبائیڈن نے ٹرمپ کو ‘نسل پرست’ اور ‘مسخرا’ کہہ ڈالا




امریکی ریاست اوہائیو میں ہونے والے مباحثے کے دوران صدارتی امیدواران ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن نے ایک دوسرے پر خوب لفظی وار کیا۔ مباحثے کے دوران جوبائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نسل پرست اور مسخرا کہہ ڈالا۔

جوبائنڈن نے مباحثے کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ معیشت اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوسکتی جب تک کورونا سے نہیں نمٹتے، کارپوریٹ ٹیکس 28 فیصد ہونا چاہیے، لوگوں کو برابری کی بنیاد پر ڈیل کیا جائے، قانون کی حکمرانی کا حامی ہوں۔

صدارتی امیدوار جوبائنڈن نے کہا کہ پولیس میں شامل کالی بھیڑوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے، کمیونٹی پولیس ہونی چاہیے، اس سے جرائم کم ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے اقتصادی بحران آیا، ہم زیادہ کمزور ہوئے۔ میرا معاشی پلان 70 لاکھ نئی نوکریاں پیدا کرے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ جوبائیڈن کے خطاب کے دوران بار بار مداخلت کرتے رہے۔ میزبان نے ٹرمپ کو مداخلت سے باز رہنے کا کہہ دیا۔

جوبائنڈن نے کہا کہ جارج فلائیڈ کا قتل اور پُرامن مظاہرہ ہوا تو صدر ٹرمپ بائبل تھامے چرچ پہنچ گئے، جارج فلائیڈ کو قتل کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ نسل پرست ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کورونا سے پہلے ہر چیز بہتر تھی، اب ہر چیز کی تعمیر نو کی جارہی ہے۔ ایک ارب پودے لگانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ 7 لاکھ نوکریاں ملک میں واپس لایا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جوبائنڈن پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اچھے صدر اور نائب صدر بننے کے لائق نہیں۔ 47 روز میں وہ کیا جو آپ 47 برس میں نہیں کرسکے۔

ٹرمپ نے جوبائیڈن سے سوالات کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ سفید فام انتہا پسندوں کی مذمت کریں گے؟ قانون نافذ کرنے والا کوئی ایک گروپ بتائیں جو آپ کا حامی ہو۔

جوبائیڈن کو ماضی یاد دلاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ افریقی امریکیوں کو آپ نے سپر شکار خور کہا تھا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ان کے دور میں جیسی اقتصادی خوشحالی آئی کبھی نہیں آئی۔ دیکھتا ہوں کہ دائیں بازو نہیں بائیں بازو کی جانب سے واقعات ہو رہے ہیں، اوباما دور میں مختلف مقامات پر آج سے زیادہ تشدد کے واقعات ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں