بابری مسجد، عدالتی فیصلے کیخلاف بھارت سے بھی آوازیں‌ اٹھنے لگیں




نئی دہلی: بابری مسجد انہدام کیس میں ملزمان کی بریت پر جمعیت علماء مہاراشٹر کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آگیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بابری مسجد انہدام کیس میں آج سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں تمام ملزمان کو بری کیے جانے پر جمعیت علما مہاراشٹر کے سیکریٹری گلزام اعظمی نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں اب اقلیتوں کو انصاف نہیں ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ بابری مسجد انہدام کیس کے تمام گواہ موجود ہیں لیکن عدالت میں آج یہ کہا گیا کہ کوئی ثبوت نہیں ملا، ہم سمجھتے ہیں آج بھارتی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، اب اس ملک میں اقلیتوں کو انصاف نہیں ملے گا آج ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھیں: بابری مسجد کے انہدام میں ملوث 32 ملزمان بری

گلزام اعظمی نے کہا کہ تمام ثبوت ہونے کے باوجود انہیں بری کردیا گیا جبکہ سبھی نشریاتی ادارے اس وقت کی تصاویر اور ویڈیوز کو چلارہے تھے۔

جمعیت علما مہاراشٹر کے سیکریٹری کا کہنا تھا کہ مسجد کو شہید کرنے والے تو اقتدار میں ہیں اپیل کرکے بھی کیا حاصل ہوگا۔

یاد رہے کہ سنہ 1992 میں بابری مسجد شہید کر دی گئی تھی جس میں مبینہ طور پر لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، ونے کٹیار اور کلیان سنگھ کے ملوث ہونے کا الزام ہے، اس سلسلے میں ان سبھی کو اس کیس میں ملزم بنایا گیا تھا جنہیں آج سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے ثبوت نہ ہونے کا حوالہ دے کر بری کر دیا۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں