سعودائزیشن سے متعلق سعودی وزارت افرادی قوت کی اہم وضاحت




ریاض: سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے اہم وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی شہری کی غیرملکی اہلیہ سعودائزیشن کے دائرے میں شمار نہیں کی جائے گی۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں خاص وژن کے تحت سعودی دائزیشن کا سلسلہ جاری ہے جس کے تحت مقامی لوگوں کو نوکریاں دی جارہی ہیں، بعض ایسے شعبے بھی ہیں جہاں غیرملکیوں کو ملازمت کی اجازت نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سوال کیا گیا کہ سعودی شہری کی اہلیہ اور سعودی بچوں کی ماں کو سعودائزیشن میں رکھا جائے گا؟ جس پر سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے وضاحت کی۔

وزارت کا کہنا تھا کہ سعودی کی غیرملکی اہلیہ کو سعودائزیشن کے دائرے میں شمار نہیں کیا جائے گا لیکن مقامی کی غیرملکی ماں سعودائزیشن کے دائرے کا حصہ ہوں گی۔

سعودائزیشن: سعودی حکومت نے اہم فیصلہ کرلیا

سعودی وزارت کے مطابق سعودی کی غیرملکی ماں کو ایسے کسی بھی پیشے پر ملازمت کی اجازت نہیں ہوگی جو پیشے سعودیوں کے لیے مختص کردیے گئے ہیں۔

سعودی شہری کی غیرملکی اہلیہ کو سعودیوں کے لیے مختص پیشے پر کام کی اجازت ہوگی۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں