امریکا نے ملائیشین پام آئل کی درآمد پر پابندی لگا دی




امریکا نے پام آئل بنانے والی ملائیشین کمپنی پر مزدوروں سے جبری مشقت کرانے اور ان کے حقوق کی پامالی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ملک میں کمپنی سے آئل درآمد کرنے پر پابندی لگا دی۔

امریکی کسٹم اینڈ بارڈر پروڈکشن (سی بی پی) کے مطابق پام آئل تیار کرنے والی ملائیشین کمپنی ایف جی وی پر جبری مشقت کا الزام ہے۔ ایف جی قی کے خلاف تحقیقات مکمل ہونے تک امریکا کمپنی سے پام آئل درآمد نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ ایک طویل عرصے سے ایف جی وی پر عالمی انسانی حقوق کے گروہ کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں اور جبری مشقت کا الزام ہے۔

امریکی پابندی کے درِ عمل میں ایف جی وی کا کہنا ہے کہ “کمپنی مزدوروں کے حقوق کا تحفظ اور ان کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے پُر عزم ہے۔

جب کہ سی بی پی کے مطابق کمپنی کے خلاف جاری تحقیقات میں بڑے انکشافات وئے ہیں۔ جن میں مزدوروں پر جنسی و جسمانی تشدد، ان کو دھمکیاں دینا، ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور ان کے شناختی دستاویزات کو قبضے میں لینا شامل ہے۔

تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی اپنے پیداواری عمل میں جبری مشقت کے شکار بچوں کو بھی استعمال کرتی ہے۔

پام آئل کی سب سے بڑی صنعتیں انڈونیشیا اور ملائیشیا میں ہیں۔ دونوں ممالک بڑے پیمانے پر پام آئل کی پیداوار کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان ممالک پر جنگلات کی کٹائی اور قدرتی رہائش گاہوں کو تباہ کرنے کے الزامات بھی ہیں۔

ایف جی وی نے غیر ملکی نیوز ٹی وی الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی پچھلے کئی سالوں سے مزدوروں کا معیار بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

ایف جی وی کے مطابق مزدوروں کی بڑی تعداد کا تعلق بھارت اور انڈونیشیا سے ہے۔ اپنا آبائی ملک چھوڑنے اور ملازمت دینے سے قبل مزدوروں کو کمپنی کی شرائط، ان کی ذمہ داریاں اور حقوق سے آگاہ کردیا جاتا ہے۔ مطمئن ہونے کے بعد مزدور ملازمت کے لیے آتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ “مزدور اور پیداواری عملے کو ملکی قانون کے مطابق کم از کم تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران کمپنی نے پیداواری عملے کی رہائشی سہولیات پر 84 اشاریہ 4 ملین ڈالرز خرچ کیے”۔

ایف جی وی نے شناختی دستاویزات ضبط کرنے کے الزام کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے مزدوروں کے لیے 32 ہزار سے زائد محفوظ دراز بنائے ہیں جہاں وہ قیمتی دستاویزات رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں