زیادتی سے قتل لڑکی کے اہلخانہ سے داد رسی کی کوشش، راہول گاندھی گرفتار




نئی دہلی : پولیس نے جنسی زیادتی اور تشدد کے بعد انتقال کرجانے والی لڑکی کے اہل خانہ سے ملاقات کےلیے جانے والے کانگریس رہنما راہول گاندھی کو گرفتار کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق راہول گاندھی اپنی بہن پریانکا گاندھی کے ہمراہ ریاست اترپردیش کے علاقے ہتراس جارہے تھے کہ اس دوران پولیس نے انہیں حراست میں لےلیا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ راہول گاندھی ہتراس متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ سے ملاقات کےلیے روانہ ہوئے تو راستے میں پولیس نے ان کے قافلے کو روک لیا جس پر انہوں نے پیدل مارچ شروع کیا۔

پولیس نے راہول گاندھی کے پیدل مارچ کو روکنے کےلیے شرکا پر لاٹھی چارج کردیا اور اپوزیشن لیڈر کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی جس پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

ریاست اتر پردیش میں دفعہ 144 کے نفاذ کے تحت 4 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی ہے اور اپوزیشن لیڈر پورا قافلہ لیکر ریاست ہتراس جارہے تھے۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ ہندومت کی بات کرنے والی مودی سرکاری نے متاثرہ لڑکی کا وقت پر علاج نہیں کرایا اور لڑکی کی موت کے بعد اہل خانہ سے بیٹی کے آخری رسومات ادا کرنے کا حق چھین لیا اور مقتولہ کو عزت و احترام تک نہیں دیا۔

بھارت : اجتماعی زیادتی اور قتل ہونے والی دلت لڑکی کو انصاف نہ مل سکا

خیال رہے کہ بھارت میں 14 سمتبر کو رونما ہونے والے واقعے نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، زیادتی کے بعد 19 سالہ دلت لڑکی کے جسم کی کئی ہڈیاں ٹوٹی ہوئیں تھیں جبکہ اُس کی زبان بھی کاٹ دی گئی تھی تاکہ وہ کچھ بول نہ سکے۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں