صدر اردوان نے کہا ہے کہ ترکی آذربائیجان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے




ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ جب تک قابض آرمینیا آذربائیجان کے مقبوضہ علاقے خالی نہیں کرتا اس وقت تک بحران ختم نہیں ہوگا، خطے میں امن صرف اس صورت میں آسکتا ہے جب آرمینیا آذربائیجان کے مقبوضہ علاقے خالی کردےگا۔

ترک صدر نے پارلیمنٹ کےچوتھے پارلیمانی سال شروع ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی آذربائیجان کی دو ریاستیں اور ایک قوم کے اصول کے تحت مدد جاری رکھے گا، ترکی کے خلاف بیان دینے مسئلہ حل نہیں ہوگا، جو ممالک آرمینیا جیسے ملک کی حمایت کر رہے ہیں ان کے خلاف انسانیت کو نقصان پہنچانے پر کارروائی کی جانی چاہئے۔

صدر اردوان نے کہا ہے کہ ترکی آذربائیجان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے،ترکی ناگورنو کاراباغ کے تنازعے میں آذربائیجان کی حمایت کررہا ہے،ترکی جنگ اور دہشت گردی کے متاثرین کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا اور انہیں پناہ دے گا۔

انہوں نے کہا کہ شام کی خانہ جنگی سے متاثر 4 لاکھ 11 ہزار شامی مہاجرین واپس اپنے گھروں میں چلے گئے ہیں، یہ سب کچھ ترکی کے آپریشنز کا نتیجہ ہے۔ ترکی نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کئی علاقے خالی کروائے جس کے بعد مہاجرین اپنے گھروں میں واپس جانے کے قابل ہوئے۔

ترک صدر نےمزیدکہا کہ ترکی کے پاس کوئی متبادل نہیں لیکن ہم اپنی پالیسیاں ازخود طے کریں گے اور مشرقی بحیرہ روم میں اپنے مفادات کا خود تحفظ کرنے کی طاقت رکھتا ہے،یونان اور یونانی قبرص کے غیر قانونی مطالبات کو تسلیم کر کے یورپین یونین ایک غیر فعال ادارہ بن چکا ہے۔

اب یہ یونان اور یونانی قبرص پر منحصر ہےکہ وہ یا تو مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو ختم کرے یا تنازعہ میں بڑھا دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں