بنگلہ دیش: ہزاروں برطرف ملازمین نئے روزگار کی تلاش اور فاقہ کشی پر مجبور




دنیا میں عالمی وبا کورونا وائرس کے اثرات تاحال برقرار ہیں۔ بنگلہ دیش میں گارمنٹس فیکٹریوں سے برطرف کیے گئے ہزاروں ملازمین نئے روزگار کی تلاش اور اپنی زندگی کی بقا کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کے ماہرین اور سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث ہزاروں ملازمین، جن میں بڑی تعداد خواتینن کی ہے، ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور سہارے کے محتاج ہیں۔

گارمنٹس صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ 3.5 ملین ڈالرز گارمنٹس آرڈرز کے منسوخ یا ملتوی ہونے اور اپریل میں 84 فیصد برآمدات کم ہونے کے باعث کم از کم 70 ہزار افراد ملازمتوں سے فارغ کیے جاچکے ہیں۔

بنگلہ دیش کی تقریباً 4 ہزار گارمنٹس فیکٹریاں اپریل میں ایک ماہ کی طویل بندش کے بعد دوبارہ کھل گئیں۔ ان فیکٹریوں سے 4 لاکھ افراد کا روزگار منسلک ہے۔ جن میں بڑی تعداد خواتین کی ہے۔ ملک میں اب تک 3 لاکھ 64 ہزار 900 افراد کورونا کا شکار جب کہ 5 ہزار 250 اموات ہوچکی ہیں۔

گارمنٹس فیکٹریوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ “منسوخ شدہ آرڈرز دوبارہ بحال ہونے سے شعبے میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ ہم دوبارہ لوگوں کو ملازمتیں فراہم کر رہے ہیں”۔

دوسری جانب سماجی کارکنان مطالبہ کر رہے ہیں کہ ملازمتوں کی فراہمی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے اور برطرف ملازمین کے لیے متبادل انتظام یا امداد کا بندوبست کیا جائے۔

بنگلہ دیشی مرکز برائے ورکر یکجہتی کے بانی کا کہنا ہے کہ “برطرف کیے گئے ہر 10 ملازمین میں سے ایک کو ملازمت پر رکھا جا رہا ہے۔ جب کہ ورکرز کی ایک بڑی تعداد اور ان کے خاندانوں کی زندگیاں داؤ پر ہیں کیوں کہ پچھلے چار ماہ سے انہوں نے کچھ نہیں کمایا”۔

مرکز ورکر یکجہتی کے بانی نے مزید کہا کہ معاشرتی تحفظ نہ ملنے پر ہزاروں برطرف ملازمین دارالحکومت ڈھاکہ چھوڑ کر اپنے آبائی گاؤں لوٹ رہے ہیں۔ ان افراد کی خوراک کا بندوبست مقامی خیراتی تنظیمیں کر رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں