بھارتی حکام کی گینگ ریپ کا شکار لڑکی کے اہل خانہ کو دھمکیاں، ویڈیو وائرل




نئی دہلی : بھارتی حکام نے اجتماعی زیادتی کا شکار اور علاج کے دوران مرنے والی دلت لڑکی کے والدین کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے علاقے ہاتھرس میں گینگ ریپ اور تشدد کے بعد موت کو گلے لگانے والی لڑکی کے والدین کو دھمکانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس کے باعث ریاست میں دوبارہ احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈیم ایم متاثرہ لڑکی کے باپ کو دھمکی دے رہا ہے کہ ’آپ اپنا اعتبار ختم کریں، میڈیا والوں کے بارے میں آپ کو بتادوں کے آج آدھے چلے ہیں کل تک باقی بھی چلے جائیں گے صرف ہم ہی آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، اب آپ کی مرضی ہے کہ آپ کو بار بار بیان بدلنا ہے یا نہیں، ایسا ہو ہم بھی بدل جائیں۔

यूपी सरकार किसी को पीड़िता के गांव जाने से क्यों रोक रही है उसका जवाब यहां है?

पीड़िता के परिवार को हाथरस डीएम जाकर धमका रहे हैं।

न मीडिया जा पायेगा, न हम लोग तो यूपी सरकार पीड़िता के परिवार को खुलकर धमका पाएगी।

ये लोग अत्याचारी हैं। pic.twitter.com/RDV2jrQfRn

— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) October 1, 2020

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ریاست اترپردیش کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی نہیں ہوئی جبکہ ایک سینئر پولیس اہلکار نے تو یہاں تک دعویٰ کردیا کہ لڑکی کا ریپ ہی نہیں ہوا۔

بھارت : اجتماعی زیادتی اور قتل ہونے والی دلت لڑکی کو انصاف نہ مل سکا

خیال رہے کہ بھارت میں 14 سمتبر کو رونما ہونے والے واقعے نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، زیادتی کے بعد 19 سالہ دلت لڑکی کے جسم کی کئی ہڈیاں ٹوٹی ہوئیں تھیں جبکہ اُس کی زبان بھی کاٹ دی گئیتھی تاکہ وہ کچھ بول نہ سکے۔

مزید پڑھیں : بھارت میں زیادتی کا شکار دلت لڑکی کی لاش پولیس نے زبردستی جلادی

واضح رہے کہ بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 2018 کے مقابلے 2019 میں 7 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ اس مدت میں فی ایک لاکھ پر جرائم کی شرح 58.8 فیصد سے بڑھ کر 62.4 فیصد ہوگئی۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں