خوفزدہ کردینے والی خبر کی حقیقت کیا ہے؟ –




واشنگٹن: امریکا میں ایک خاتون کے کرونا وائرس ٹیسٹ کے دوران دماغ کو نقصان پہنچنے کی خبر نے سوشل میڈیا صارفین میں خوف و ہراس پھیلا دیا تاہم جلد ہی یہ خبر بے بنیاد نکلی۔

گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر وائرل اس خبر نے صارفین کو بے چینی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ خبر میں بتایا گیا کہ کوویڈ ٹیسٹ کے دوران نمونہ لینے کے عمل نے ایک خاتون کے دماغ کی باریک تہہ میں سوراخ کردیا۔

خبر کے مطابق دماغ کی لیئر کو نقصان پہنچنے کے بعد دماغ سے مائع خاتون کی ناک سے بہنے لگا جس نے ڈاکٹرز میں کھلبلی مچا دی۔

مذکورہ واقعے کے بعد خاتون کو شدید سر درد اور قے شروع ہوگئی جبکہ انہیں روشنی دیکھنے میں بھی بے حد تکلیف کا سامنا ہونے لگا۔

خاتون کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی کوویڈ ٹیسٹ کروا چکی ہیں، اس وقت سب کچھ ٹھیک تھا تاہم اس بار انہیں محسوس ہوا کہ نمونہ لینے والی اسٹک ان کی ناک کے اندر کچھ زیادہ گہرائی میں چلی گئی جس سے دماغ کو نقصان پہنچا۔

جلد ہی فیس بک کی جانب سے اس خبر کو جھوٹ قرار دے دیا گیا۔ فیس بک کی جانب سے فراہم کردہ فیکٹ چیک لنک میں بتایا گیا کہ اس حوالے سے ماہرین طب نے وضاحت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ کی جس لیئر کی بات ہورہی ہے وہ بلڈ برین بیریئر کہلاتی ہے۔ یہ ایک پتلی سی جھلی ہوتی ہے جو خون میں موجود مضر اجزا کو دماغ میں جانے سے روکتی ہے۔

البتہ یہ جھلی دماغ کے لیے فائدہ مند اشیا جیسے نیوٹرنٹس اور آکسیجن کو اپنے اندر سے گزرنے دیتی ہے۔

ایک فیس بک پوسٹ جس میں تصاویر بھی شامل تھیں، اور جسے بعد ازاں ہٹا دیا گیا، میں دعویٰ کیا گیا کہ کوویڈ ٹیسٹ کے لیے نمونہ بالکل اسی جھلی کے قریب سے لیا جاتا ہے جو ذرا سی بداحتیاطی کے باعث اس جھلی کونقصان پہنچا سکتا ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر تھامس ہارٹنگ کا کہنا تھا کہ اس لیئر تک ناک کے ذریعے پہنچنا ممکن نہیں، درمیان میں بہت سے ٹشوز، دیگر جھلیاں اور کھوپڑی کی کچھ ہڈیاں حائل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس جھلی کو نقصان پہنچنے کے بہت سے عوامل ہوسکتے ہیں جو زیادہ تر اندرونی ہوتے ہیں، جیسے خطرناک قسم کے اجزا کا اس جھلی تک پہنچ جانا جو اسے نقصان پہنچا کر دماغ کے اندر داخل ہوجائیں، یا پھر کوئی اعصابی بیماری، تاہم صرف ناک کے ذریعے کسی شے کا اس تک پہنچنا ناممکن ہے۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں