برطانوی عدالت نے نایاب کتب چرانے والے گروہ کو منطقی انجام تک پہنچا دیا




لندن : برطانوی عدالت  نے پولیس کو نایاب کتب کے نسخے چرانے والے گروہ کو جیل منتقل کا حکم دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانوی دارالحکومت لندن سے نایاب کتب چرانے والے گروہ عدالت نے منطقی انجام تک پہنچا دیا۔

دو اکتوبر کو عدالت نے ایک درجن چوروں کو جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے جو برطانیہ سے نایاب کتب چرا کر بیرون ملک منتقل کرتے تھے جبکہ ساتھ ساتھ نایاب و بیش قیمت آرٹ کے شاہکار بھی چراتے تھے۔

برطانوی پولیس کا کہنا تھا کہ گروہ نے سینکڑوں کتابوں کو منظم ڈکیتیوں میں چرایا ہے۔

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ نایاب کتب کی چوری کا سلسلہ گزشتہ دو برس سے جاری تھا اور ان وارداتوں میں رومانیہ کا جرائم پیشہ ملوث تھا جو پیشہ ور چوروں کو برطانیہ بھیجتا تھا اور کام مکمل ہونے کےبعد انہیں واپس رومانیہ بلالیا جاتا تھا تاکہ پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے سے بچایا جاسکے۔

لندن پولیس کے مطابق چوری شدہ اشیاء کو محفوظ انداز میں برطانیہ سے باہر منتقل کیا جاتا تھا۔ پولیس کا خیال ہے کے واردات کے وقت یہ چھت میں سوراخ کر کے مقررہ مقام تک پہنچتے تھے تا کہ سکیورٹی الارم سے بچا جا سکے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نایاب کتب کی چوری میں مشہور سائنسدان آئزک نیوٹن کی تحریر کردہ کتاب کا پہلا ایڈیشن بھی شامل تھا جبکہ اطالوی سائنسدان گیلیلیو کے علاوہ چودہویں صدی کے اطالوی شاعر و عالم پیٹر ارک اور ڈانٹے کی کتابوں کے انتہائی نایاب نمونے بھی شامل ہے۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں