اسمگلرز نے تارکین وطن کو سمندر کے بیچ زبردستی کشتی سے اتار دیا، 8 ہلاک –




جیوبوتی: مسلمان ملک جیوبوتی کے قریب سمندر میں انسانی اسمگلرز نے تارکین وطن کو زبردستی کشتی سے اتار دیا، جس کے باعث 8 تارکین وطن ڈوب کر مر گئے۔

تفصیلات کے مطابق ترک وطن کی بین الاقوامی تنظیم (IOM) کا کہنا ہے کہ جیوبوتی کے قریب انسانی اسمگلروں کے ذریعے ایک کشتی سے جبری طور پر اتارنے کے بعد کم از کم 8 تارکین وطن ڈوب گئے اور 12 لاپتا ہیں۔

اس انسانیت سوز واقعے میں 14 تارکین وطن زندہ بچ گئے جنھیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق یہ تمام ایتھوپائی باشندے تھے جو کو وِڈ 19 کی وجہ سے سرحد بند ہونے پر یمن کے راستے سعودی عرب نہیں پہنچ پائے تھے۔

تنظیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بچائے گئے عینی شاہدین نے بتایا کہ تین ظالم اسمگلروں نے نوجوان مرد و خواتین کو سمندر کے اندر تشدد کر کے پانی میں اتار دیا تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ راستہ اسمگلرز کی جانب سے تارکین وطن کے استحصال کے لیے جانا جاتا ہے، اکثر افراد کو یہاں سے سفر کرنے کے لیے اسمگلرز کو بہت بھاری رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آٹھ تارکین وطن کی لاشیں بہہ کر ساحل پر آ گئی تھیں جنھیں دفنا دیا گیا ہے۔ آئی او ایم نے بتایا کہ پچھلے تین ہفتوں میں تقریباً 2 ہزار تارکین وطن یمن سے جبوتی پہنچے ہیں۔ خیال رہے کہ یمن میں وبائی مرض کرونا اور جنگ نے خلیجی ممالک کے سفر کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔

2017 میں بھی صومالیہ اور ایتھوپیا سے آنے والے 50 تارکین وطن کو جان بوجھ کر اسی طرح ڈبویا گیا تھا جب ایک اسمگلر نے انھیں یمن کے ساحل پر سمندر میں اترنے پر مجبور کر دیا تھا۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں