انڈونیشیا میں ہزاروں ملازمین نئے لیبر قانون کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے




جکارتا: انڈونیشیا میں ہزاروں ملازمین ملک کے مختلف شہروں میں حکومت کے حالیہ منظور کردہ نئے لیبر بل کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہزاروں ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت نئے لیبر قانون کو ختم کرے جس کے مطابق کنٹریکٹ اور آؤٹ سورس ملازمین کو کسی ایک جگہ ملازمت کرنے کے لیے پابند کیا جائے گا۔

جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ نیا قانون ملکی معیشت مستحکم کرنے اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کا سبب بنے گا۔

پارلیمنٹ نے پیر کے روز “اومنی بس” بل منظور کیا۔ حکومت کے مطابق اس بل کا مقصد ملک میں مزید ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اومنی بس بل کے ہمراہ 70 قوانین پر نظرِ ثانی بھی کی گئی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ملکی معیشت میں تیزی سے اصلاحات لانے اور بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول کرنا ہے۔

پارلیمنٹ کی اکثریت نے ملازمین کی جانب سے متوقع ردِ عمل کے باوجود بل کو پاس کیا۔

انڈونیشیا کی تاجر تنظیم کے رکن انور سنوسی کا کہنا ہے کہ “نیا قانون ملازمتوں پر منفی اثرات ڈالے گا۔ اس بل کا مطلب ہے کہ آؤٹ سورس اور کنٹریکٹ ملازمین کو ایک جگہ ہی بانڈ کردیا جائے گا”۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً 400 ملازمین نے احتجاجاً فرائض کی انجام دہی روک دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئے بل سے کنٹریکٹ کی تین سالہ مدت کا خاتمہ اور کنٹریکٹ سے علیحدگی اختیار کرنے کا راستہ بند ہوجائے گا۔

جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد باضابطہ طور پر ملازمتوں کو فروغ دینا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں