مودی سرکار نے زیادتی کیس کو بیرونی سازش کا رنگ دے دیا




نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیکس) بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر ہاتھرس میں دلت لڑکی کے اجتماعی زیادتی کے بعد قتل نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کررکھا دیا ہے۔ اس ظالمانہ حرکت کے خلاف دارالحکومت نئی دہلی سمیت کئی شہروں میں شدید احتجاج جاری ہے، جس میں حزب اختلاف کی جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں شامل ہیں۔ اس احتجاج نے مودی سرکار پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے باعث بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی حکومت نے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور خود پر دباؤ کم کرنے کے لییواقعے کو بین الاقوامی سازش قراردیا ہے۔ اس کا ایک مقصد واقعے میں ملوث اونچی ذات کے ان ہندوؤں کو بچانا بھی ہے، جو اس گھناؤنے جرم میں شریک ہوئے۔ پولیس کی جانب سے زیادتی کی شکار لڑکی کی آخری رسومات خاموشی سے ادا کردینے پر بھی وزیراعلیٰ اترپردیش آدتیہ ناتھ یوگی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اترپردیش پولیس نے ذات پات کی بنیاد پر کشیدگی بھڑکانے اور یوگی حکومت کو بدنام کرنے سمیت دیگر الزامات کے تحت ریاست کے مختلف تھانوں میں نامعلوم افراد کے خلاف 21 مقدمات بھی درج کرا دیے اور اس واقعے کی رپورٹنگ کے لیے ہاتھرس جانے والے ایک صحافی سمیت 4 افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس پروپیگنڈا کررہی ہے کہ اس نے دلت لڑکی سے زیادتی کے معاملے پر ذات پات کی بنیاد پر فساد بھڑکانے اور یوگی حکومت کو بدنام کرنے کے لیے تیار کی گئی ایک بین الاقوامی سازش کا پتا لگایا ہے، جس کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف ملک سے غداری سمیت انتہائی سخت قوانین کے تحت مقدمات درج کرائے گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعت کانگریس نے یوگی کے بین الاقوامی سازش کے دعوے پر سخت ردعمل میں کہا ہے کہ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ اپنا دماغی توازن کھو بیٹھے ہیں۔ وہ متاثرین کو انصاف دلانے کے بجائے بین الاقوامی سازش کی بے وقوفانہ تھیوری پیش کررہے ہیں۔ آدتیہ ناتھ کو عوام کو بے وقوف بنانے کو چھوڑ کر بیٹیوں کو انصاف دلانا چاہیے۔ ادھر یوپی پولیس نے جنوبی بھارتی صوبے کیرالا کی ایک مقبول نیوز ویب سائٹ سے وابستہ صحافی صدیق کپن کو اس وقت گرفتار کر لیا، جب وہ دہلی سے ہاتھرس جارہے تھے۔ ان کے ساتھ کار میں سوار دیگر 3 افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے ان کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی ضبط کرلیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں