ترکی،نگور نورکاراباخ میں جنگ بندی کیلئے سرگرم




باکو: آذری صدر الہام علییوف سے تُرک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو ملاقات کررہے ہیں

باکو (انٹرنیشنل ڈیسک) نگورنو کاراباخ کے خطے میں 10روز سے جاری لڑائی رکوانے کے لیے ترکی کے وزیر خارجہ اتحادی ملک آذربائیجان کے دارالحکومت باکو پہنچ گئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق مولود چاوش اولو نے منگل کے روز آذربائیجان کے صدر الہام علییوف سے ملاقات کی۔ اس سے قبل نیٹو کے سربراہ نے ترکی پر زور دیا تھا کہ وہ خطے میں لڑائی بند کرانے کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرے۔ پیر کے روز روس، امریکا اور فرانس نے نگورنو کاراباخ کے تنازع پر آذربائیجان اور آرمینیا سے اپیل کی تھی کہ وہ فوری طور پر غیرمشروط جنگ بندی کا اعلان کریں، تاکہ بات چیت کی راہ ہموار ہوسکے۔ آذری صدر اور تُرک وزیر خارجہ کی ملاقات میں آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بائرام اوف، تُرک قومی اسمبلی میں دونوں ممالک کے بین الپارلیمانی دوستی گروپ کے سربراہ شامل آئرم اور باکو میں ترکی کے سفیر ایرکان اوزاورال نے بھی شرکت کی۔ دوسری جانب آذری صدر الہام علییوف نے کہا ہیکہ آذری فوج کی دشمن کے خلاف پیش قدمی جاری ہے اور ترکی کے اعلیٰ معیار کے ڈرون طیاروں کے استعمال سے ہمیں کم جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ترک ریڈیو اور ٹیلی وژن (ٹی آر ٹی) کو انٹرویو میں الہام علییوف کا کہنا تھا کہ ترکی اذربائیجان کے ساتھ کھڑا ہے، ملکی فوج نے ترکی کے اعلیٰ پائے کے ڈرون استعمال کیے جس سے ہمیں فائدہ پہنچا اور دشمن کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آذربائیجان نے کئی علاقے واگزار کرالیے ہیں، اگر آرمینیا مقبوضہ علاقے واپس ہمیں کردے تو علاقے میں امن قائم ہوسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں