کرغیزستان میں مشتعل عوام کا سرکاری عمارتوں پر قبضہ




بشکیک: مظاہرین سرکاری احاطے کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگئے ہیں

بشکیک (انٹرنیشنل ڈیسک) کرغیزستان میں اتوار کے روز ہوئے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے پُرتشدد رخ اختیار کرگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب دارالحکومت بشکیک میں ہزاروں افراد نے صدر سورن بائی جین بیکوف کے خلاف مارچ کیا اور پارلیمان سمیت دیگر سرکاری عمارتوں میں داخل ہوگئے۔ اس سے قبل حکام نے شہر کے مرکزی چوک پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپوں اور آنسو گیس کا استعمال کیاتھا۔ جھڑپوں کے دوران سیکڑوں افراد زخمی ہوئے، جن میں پولیس اہل کار بھی شامل ہیں۔ اپوزیشن کا الزام تھا کہ صدر سورن بائی نے دھاندلی کرکے من پسند پارٹیوں کو الیکشن جتوایا۔ دوسری جانب حکام نے مظاہروں کے بعد الیکشن کے نتائج کالعدم قرار دے دیے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان 2ہفتے میں متوقع ہے۔ یورپ کی علاقائی تعاون کی تنظیم آرگنائزیشن فار سیکورٹی اینڈ کوآپریشن ان یورپ کے مطابق الیکشن میں ووٹوں کی خرید و فروخت کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ ادھر حکومتی ترجمان کا کہنا تھاکہ صدر بیکوف سیاسی بحران کے حل کے لیے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ انتخابات میں 120 رکنی پارلیمان میں برتری حاصل کرنے والی دونوں جماعتیں صدر سورن بائی جین بیکوف کی حمایت یافتہ سمجھی جاتی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران دونوں پارٹیوں نے روس سے بھی اپنی قربت کا بڑھ چڑھ کر اظہار کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں