کرغیزستان میں سیاسی بحران،اسپیکر بھی مستعفی




کرغیزستان: مشتعل مظاہرین کے ہاتھوں پارلیمان اور دیگر سرکاری عمارتوں پر قبضے کے بعد دستاویزات بکھری پڑی ہیں‘ نذرِآتش کی گئی کار تباہ ہوچکی ہے‘ چھوٹی تصاویر مستعفی ہونے والے وزیراعظم کبت بیک بوروناف اور اسپیکر اسمبلی داستان جمعہ بیکوف کی ہیں

بشکیک (انٹرنیشنل ڈیسک) کرغیزستان میں متنازع انتخابات کے نتائج کالعدم ہونے اور وزیراعظم کے مستعفی ہونے کے بعد اسپیکر پارلیمان داستان جمعہ بکوف نے بھی عہدہ چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا،جس کے بعد مظاہرین نے پارلیمان اور دیگر سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ منگل کے روز کرغزستان میں وزیراعظم کبت بیک بوروناف اور بشکیک کے میئر سمیت کئی حکومتی وزرا مستعفی ہو گئے تھے۔ دارالحکومت بشکیک میں مظاہروں کے دوران اپوزیشن نے صدر سورن بائی جین بیکوف پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے اپنی من پسند پارٹیوں کو جتوایا۔ عوامی مظاہروں کے بعد حکام نے انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دے دیاتھا۔ ادھر اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ صدر جین بیکوف اقتدار چھوڑ دیں اور ملک میں نئے انتخابات کا اعلان کیا جائے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سیاسی بحران کے باعث واضح نہیں کہ بشکیک میں حکومت کون چلا رہا ہے۔ مظاہرے شروع ہونے پر اپوزیشن اپنے حکومت بنانے کا دعویٰ کرچکی ہے،جب کہ صدر سورن کے حامی اس وقت منظر عام سے غائب ہیں اور اطلاعات کے مطابق وہ ملک کے جنوبی حصے میں میں اپنے آبائی صوبے اوش فرار ہو گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ طور پر ایک کونسل تشکیل دی ہے، جس نے حکومت کو فارغ کرنے اور نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ کرغیزستان میں اس سے قبل بھی عوامی مزاحمت کے باعث 2 مرتبہ، 2005ء اور 2010ء میں اس وقت کے صدور کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں