جارج فلائیڈ کا قاتل رہا ہوگیا




واشنگٹن: امریکا میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کا قاتل پولیس اہلکار ڈریک شاوین ضمانت پر جیل سے رہا ہوگیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پولیس افسر شاوین کو بدھ کے روز امریکی ریاست منی سوٹے کی جیل سے دس لاکھ ڈالر کی ضمانت پر رہا کر دیا گيا۔

رپورٹ کے مطابق 44 سالہ ڈریک شاوین جارج فلائیڈ کے قتل کے الزام میں قید تھا جو اب ضمانت پر رہا ہوچکا ہے، اس لرزہ خیز واقعہ کے بعد پولیس نے شاوین کو نوکری سے برطرف کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

قتل میں ملوث دیگر 3 پولیس اہلکاروں کو پہلے ہی ساڑھے 7 لاکھ ڈالر کی ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے۔

واضح ر ہے کہ رواں سال جون میں جارج فلائیڈ کی پولیس حراست میں موت واقع ہوئی تھی، وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک اہلکار سیاہ فام کی گردن پر گھٹنا دبائے بیٹھا ہے، معصول شہری نے کراہتے ہوئے التجا بھی کی کہ مجھے چھوڑ دو میرا دم گھٹ رہا ہے لیکن قاتل باز نہ آیا جس کے باعث اس کی موت ہوگئی۔

جارج فلائیڈ کے قتل میں ملوث ملزم کو رہائی مل گئی

بعد ازاں شدید عوامی دباؤ اور دنیا بھر میں مظاہروں کے بعد واقعے کے مرکزی ملزم سفید فام پولیس اہلکار ڈریک شیاوین کے خلاف مقدمے میں مزید سخت دفعات شامل کی گئیں۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں