ہر 16 سیکنڈ میں مردہ بچے کی پیدائش پر اقوام متحدہ کی اہم رپورٹ جاری




اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر 16 سیکنڈ میں ایک مردہ بچے کو جنم دیا جاتا ہے۔ اس طرح سال بھر میں 20 لاکھ بچوں کی ولادت مردہ حالت میں ہوتی ہے۔ عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے مزید 2 لاکھ مردہ بچے پیدا ہوسکتے ہیں۔ یو این نے اسے ‘تباہ کن’ صورتِ حال قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے فنڈ برائے اطفال یونیسف، صحت اور عالمی بینک کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق 84 فیصد مردہ بچوں کی پیدائش کم یا درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہے۔ جب کہ ان ممالک میں دائیوں کی کمی اور بدترین نظامِ صحت بھی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔

عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ پیدائش سے قبل دیکھ بھال کے نظام میں بہتری لانے سے ہزاروں بچوں کی زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے۔

یونیسف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ “دورانِ حمل یا ولادت بچے سے محروم ہوجانا اُن کے لیے انتہائی الم ناک سانحہ ہوتا ہے جو ہمیشہ اس درد کو خاموشی سے برداشت کر لیتے ہیں”۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ “بچے سے محروم ہونے کے علاوہ والدین پر نفیسیاتی اور مالی نقصانات کے اثرات شدید اور دیرپا ہوتے ہیں”۔

سال 2019 کے دوران سب سے زیادہ مردہ بچوں کی پیدائش ذیلی صحارائی افریقا اور جنوبی ایشیا میں ہوئی۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ والمی وبا کے باعث سالانہ مردہ بچوں کی پیدائش کی تعداد میں مزید 2 لاکھ کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ وبا کی وجہ سے کم یا درمیانی آمدنی والے ممالک کا نظامِ صحت 50 فیصد مزید متاثر ہوسکتا ہے۔

یونیسیف کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ کورونا کی مریضہ نہ ہونے کے باوجود حاملہ خاتون کا نوزائیدہ بچہ کورونا کا شکار پایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک وجہ تو بڑے پیمانے پر صحت کے عملے کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مختص کرنا اور دوسری وجہ کورونا کے باعث لوگوں کا اسپتال آنے سے ڈرنا ہے۔

ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ “اگر یہی صورتِ حال رہی تو 2030 تک دو کروڑ سے زائد مردہ بچوں کی پیدائش ہوسکتی ہے”۔

اپنا تبصرہ بھیجیں