آذربائیجان کے ہاتھوں آرمینیائی فوج کی پسپائی، 10 روز میں 26 علاقے فتح –




اسلام آباد: آذبائیجان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشنز سمیر گلئیوف نے کہا ہے کہ آرمینیا نے پہلے جنگ کا آغاز کیا جس کے بعد ہم نے جوابی کارروائی کی، آرمینیائی جارحیت سے اب تک 31 شہری شہید اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں، ہم نے گزشتہ 10 روز میں 1 شہر سمیت 26 علاقوں کو فتح کیا ہے۔

اسلام آباد میں قائم سفارت خانے میں سفیر اور ملٹری اتاشی کرنل مہمان نوروز کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے آذربائیجان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشنز کا کہنا تھا کہ  آرمینیا نے بیرون ممالک سے آئے دہشت گردوں کو مسلح کر کہ محاذ پر بھیجنا شروع کر دیا ہے، آذربائیجان صرف اپنی سالمیت کا دفاع کررہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آرمینا کا بنیادی مقصد شہری آبادیوں کا نشانہ بنا کر دہشت پھیلانا ہے، یہ جینیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے، شہریوں کو  آرمینا فوج کی جارحیت سے بچانے کے لیے ہماری افواج نے صرف جوابی کارروائی کررہی ہے۔

ملٹری اتاشی کا کہنا تھا کہ ’آذربائیجان کی افواج نے انتہائی کامیابی سے آرمینیا کو نشانہ بنایا، جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی آزری افواج کے نگورنوکاراباخ میں چھ دیہات واپس لیے اور  بلند تزویراتی پوزیشنوں کا قبضہ حاصل کرلیا تھا، گزشتہ دس روز میں آزبائیجان کی افواج نے 25 دیہات اور ایک شہر کو آرمینیا کے قبضہ سے آزاد کرایا‘۔

مزید پڑھیں: کاراباخ تنازع: ترکی آرمینیا کے سامنے ڈٹ گیا

ملٹری اتاشی نے بتایا کہ ’5 اکتوبر کو آرمینیا نے سمرچ اور توچکا میزائل سے آزربائیجان کے علاقوں کو نشانہ بنایا، ہم اب بھی گولہ باری کرنے والی آرمینیائی افواج کی چوکیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں‘۔ملٹری اتاشی کرنل مہمان نوروز کا کہنا تھا کہ ’ آرمینیا کی فوج نے ہزاروں کروں کو جنگ کے لیے بھیجا جن میں سے درجنوں کو ہماری افواج نے ہلاک کیا‘۔

کرنل مہمان نوروز کا کہنا تھا کہ ’آرمینیا اپنی شکست دیکھ کر گمراہ کن خبریں پھیلا رہا ہے، اُس نے جنگ میں پاکستان اور ترکی کے ملوث ہونے کی افواہ پھیلائی اور دعویٰ کیا کہ 30 ہزار فوجی آذربائیجان کے ساتھ جنگ میں شریک ہیں جبکہ یہ بھی کہا گیا کہ ترکی کا فضائیہ بھی جنگ میں شامل ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ان افواہوں کی تردید کرتے ہیں کیونکہ ترکی اور پاکستان آذربائیجان کے ہمیشہ سے دوست ملک رہے ہیں تاہم اس جنگ میں ان کا کوئی عملی کردار نہیں ہے، دونوں ممالک نے بھرپور حمایات کا اعلان کیا ہے‘۔

آذربائیجان کے  سفیر علی علیزادہ کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مطالبہ فوری اور غیرمشروط انصاف ہے، ہم چاہتے ہیں ہمارے قبضہ کئے گئے علاقوں سے آرمینیا کی افواج فوری طور پر نکل جائے، سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آرمینیا کو فوری طور ہر آذربائیجان کے علاقے خالی کردینا چاہئیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: آرمینیا کا 3 آذربائیجان کے طیارے مارگرانے کا دعویٰ، آذربائیجان کی تردید

اسے بھی پڑھیں: آرمینیا کی پسپائی، آذربائیجان کی خاتون اینکر کی ویڈیو وائرل

اُن کا کہنا تھا کہ ’آذربائیجان ہمیشہ سے پرامن انداز  میں اس تنازع کو حل کرنے کا خواہش مند تھا مگر آرمینیا نے جارحیت کی تو ہمیں بھی دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑی، ہم نے آرمینیا کے کسی علاقے کو نشانہ نہیں بنایا بس اپنے ہی مقبوضہ علاقوں پر سے قبضہ چھڑوانے کے لیے کارروائی کی‘۔

آذربائیجان کے سفیر کا کہنا تھا کہ ’آرمینیائی افواج ہمارے شہری علاقوں کو نشانہ بناتی ہیں جبکہ ہم جوابی کارروائی میں صرف اُن کی عسکری تنصیبات کو ہی نشانہ بناتے ہیں‘۔

انہوں نے آذربائیجان کی حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستانی دفترخارجہ نے بھی آرمینیا کے اُس الزام کی تردید کی جس میں بولا گیا تھا کہ پاکستانی فورسز آذربائیجان کی فوج کے ساتھ مل کر لڑ  رہی ہیں‘۔

آزربائیجان کے سفیر علی علیزادے کا کہنا تھا کہ ’ہم جنگ نہیں چاہتے، صرف انصاف چاہتے ہیں اور انصاف یہی ہے کہ آرمینیائی افواج فوری طور پر غیر مشروط آزربائیجانی علاقوں سے نکل جائیں، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں آرمینیائی افواج کو آزربائیجان کے مقبوضہ علاقوں سے نکل جانے پر دباو ڈالتی ہیں‘۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں