نکاح کے چار ماہ بعد رخصتی، دلہا کو شرط رکھنا گلے پڑ گیا




نئی دہلی: بھارت میں لاک ڈاؤن میں ہونے والے نکاح کے چار ماہ بعد رخصی کا ٹائم آیا تو دلہا نے لڑکی والوں کے سامنے شرط رکھ دی جس کے بعد لڑکی گھر والوں نے دلہا کو سبق سکھا دیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست میرٹھ میں لاک ڈاؤن میں نکاح کے چار ماہ بعد رخصتی کے دن دلہا نے لڑکی والوں کے سامنے ایک شرط رکھی ، جس سے لڑکی کے اہل خانہ کافی ناراض ہوگئے اور انہوں نے دلہے اور اس کے گھر والوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا ۔ یہ واقعہ میرٹھ لساڑی گیٹ تھانہ علاقہ کے سہیل گارڈن میں پیش آیا ۔

بھارتی میڈیا کے مطابق عاقل نامی شخص نے اپنی بیٹی لائبہ کا نکاح چار ماہ قبل میوگڑھی کے بلال سے کیا تھا، 10 اکتوبر کو رخصتی کی تاریخ طے کی گئی تھی ، لیکن 10 تاریخ کو لڑکی والے دولہا اور اس کے گھروالوں کا انتظار کرتے رہ گئے اور دلہا دلہن کے گھر رخصتی کرانے نہیں پہنچا۔

دلہن کے گھروالوں میں بے چینی پیدا ہوئی تو دلہے کہ گھر والوں سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ دلہن کی رخصتی کے لیے دلہے نے ایک موٹر سائیکل اور ایک لاکھ روپے نقد رقم کا مطالبہ کیا ہے۔

دلہا کی جانب سےعین وقت پر اس طرح کے غیر مناسب مطالبے پر دلہن کے گھر والے ناراض ہو گئے اور دلہے کی تلاش شروع کر دی، دلہن کے گھر والوں نے دلہے اور اس کی ماں کو پکڑ لیا اور گھر لا کر یرغمال بنا لیا۔

دلہن کے اہلخانہ نے سارے واقعے سے پولیس کو بھی آگاہ رکھا، بعدازاں تھانہ لساڑی گیٹ پولیس نے دلہا اور اس کی ماں کو حراست میں لے لیا۔

دراصل چار ماہ قبل لاک ڈاؤن کے دوران لائبہ اور بلال کا نکاح سادگی سے پڑھایا گیا تھا، اُس وقت نہ تو بارات آئی اور نہ دعوت کا اہتمام کیا جا سکا، ایسے میں دلہن اور دلہا کے گھر والوں کی آپسی رضامندی سے اکتوبر میں رخصتی اور دعوت کا معاملہ طے ہوا تھا۔

طے تاریخ کے مطابق دلہن کے گھر والوں نے باراتیوں کی ضیافت کے لیے تمام انتظامات کرلئے تھے اور بارات کا انتظار کیا جا رہا تھا لیکن دلہن کے گھر والوں کے مطابق عین وقت پر دلہے نے موٹر سائیکل اور روپے کی ڈیمانڈ رکھ کر لڑکی والوں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی جس پر پولیس کو آگاہ کیا گیا۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں