زیادتی کے بڑھتے واقعات ،بھارت کے ایک ہزار دیہات میں احتجاج – Urdu News – Today News




بھارت: شہری ہندو مذہبی رسم کے ذریعے ملک میں زیادتی کے واقعات کی بڑھتی ہوئی تعداد کو اجاگر کررہے ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی شہر ہاتھرس میں 19سالہ دلت لڑکی سے اجتماعی زیادتی اور بعد ازاں اس کی موت کے خلاف ملک کے ایک ہزار دیہات میں خواتین نے مظاہرے کیے اورعلامتی طور پر ’’ہلدی تلک‘‘ کی ہندوانہ مذہبی رسم ادا کی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق بھارت کی 14 ریاستوں کے سیکڑوں دیہات میں ہونے والے احتجاج میں مختلف مذاہب کی خواتین نے حصہ لیا، جس میں زیادتی کا شکار مقتول لڑکی کے نام پر بینر تیار کیا گیا، جس پر مظاہرین نے ہلدی ڈال کر آخری رسومات کی علامتی ادائیگی کی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اتر پردیش کے انتہا پسند ہندو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی اس سلسلے میں شرمناک خاموشی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یو پی کی حکومت نے زیادتی کا شکار لڑکی کے اہل خانہ کو نہ ہی لاش کا آخری دیدار کرنے دیا اور نہ ہی آخری رسومات ادا کرنے دیں، جو ریاست کی طرف سے مذہبی حقوق سے محروم کرنے کے مترادف اور قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عوامی بیداری پروگرام کے روح رواں مارٹن میکوان نے کہا کہ بھارت میں تو مجرموں کو بھی سزائے موت سے قبل ان کی آخری خواہش کا احترام کیا جاتا ہے، تاہم یو پی حکومت نے متاثرہ لڑکی کی لاش کو خود ہی جلا کر مجرموں کے خلاف تمام ثبوت مٹا دیے۔ واضح رہے کہ بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم خصوصاً جنسی زیادتیوں کے واقعات میں غیر معمولی اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس پر قابو پانے میں مودی سرکار مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں