خدارا ملک کو امن دو




تحریر : سید جواد شعیب
“آپریشن نہیں مزاکرات “،،،امن کو ایک موقع دیاجائے،،
یہی کہا جاتا رہا اور ہم سنتے رہے کہیں یہ سنا کہ مزاکرات نہیں ہونگے ،کہیں یہ سنا کہ مزاکرات کیلئے حکومت سنجیدہ نہیں ،،کبھی یہ کہا گیا کہ طالبان مزاکرات چاہتے نہیں اور یہ بھی سنا کہ طرفین کی جانب سے مزاکرات کیلئے
پاکستان کا ایک کنفیوژڈ شہری یہی سوچ اور لکھ سکتا ہے سو لکھ ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس تحریر سے اختلاف سب کا حق ہے کیوںکہ آزادی اظہار رائے میرا بھی تو حق ہے،،،،
سنجیدہ کوششیں ہی نہیں کی جارہی،،،،دھماکے ہوتے رہے لوگ مرتے رہے،ذمہ داریاں قبول ہوتی رہیں اور ٹاک شوز کی رونقوں میں اضافہ ہوتا رہا اور مزاکرات کے حامی اور مخالف سیاستدان اپنے اپنے بھاشن دیتے رہے اس وقت بھی کسی نے اٹھارہ کروڑ عوام کا نہ سوچا اور اپنے اپنے منجن بیچتے رہے،،،
اب جب حکومت آگے بڑھی مزاکرات کا ایک موقع دینے کی بات کی گئی،چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔۔
لیکن جب طالبان کی جانب سے انہی مزاکرات کے حامی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کو مزاکرات کیلئے کمیٹی میں شامل کیا گیا تو دائیں بائِیں بغلیں جھانکی جارہی ہیں ۔۔۔۔۔ارے جب امن کو ایک موقع دینے کی بات کرتے ہو تو کس بات کا ڈر قوم کو امن دینے کیلئے اگر کسی کا کردار اہم ہے تو کیا ایسےمیں اپنی اپنی جماعتی سیاست کا فائدہ نقصا ن کیا معنی رکھتاہے،جب قوم کو مسیحاوں کی ضرورت ہے تو ایسے میں شخصی یا سیاسی پروٹوکول کیا معنی رکھتا ہے،،،
ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ جب حکومت نے مزاکرات کیلئے خود آگے آنے کے بجائے عرفان صدیقی ،میجر ریٹائڑڈ عامر،رحیم اللہ یوسف زئی اور رستم شاہ مہمند کو آگے بڑھایا تو اگر طالبان نے خود آگے کے بجائے عمران خان،مولانا سمیع الحق،مفتی کفایت اللہ،پروفیسر ابراہیم اور مولانا عبدالعزیز کا نام دیا تو کیوں اس ثالثی کمیٹی کو متناز عہ بنایا گیا ،،کیا حکومت اور طالبان کی نامزد کمیٹی کے اراکین ملکر ملک وقوم کو اس بحران سے نہیں نکال سکتے اور اگر نکال سکتے ہیں تو عمران خان اور مفتی کفایت اللہ کا کمیٹی میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ محض اپنی سیاسی دکان چمکانے کے مترادف نہیں۔۔۔۔
کہیں ایسا تو نہیں یہ دونوں حضرات پروپیگنڈوں کی زینت بننے سے ڈر گئے اگر ملک وقوم کی بہتری مقصود ہے تو بحیثیت پاکستانی ہر شہری کو پاک سرزمین نے دہشتگردی کے خاتمے،فوج کے وقار میں اضافے اور خوشحالی اور ترقی کیلئے اپنا کرادار اداکرنا چاہیئے اور بھی سیاسی فائدے نقصان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے۔۔۔۔۔سمجھ نہیں آتا کہ حکومت کی کمیٹی میں کوئی وزیر نہیں کوئی فوجی نہیں سینئر صحافی اور سول سوسائٹی لیکن دوسری کمیٹی کو دہشتگردوں کو ساتھی بنا کر پیش کرنے کو کوشش کی جارہی ہے یہی وجہ ہے محب وطن سیاستدان چاہتے تو ہیں کہ مزاکرات میں کردار ادا کریں لیکن جانے کیوں ڈرتے ہیں ۔۔شاید پروپیگنڈا شوز کی زینت بننے سے،، ارے امن چاہتے ہو تو قیمت تو ادا کرنی ہی پڑے گی کچھ پانا ہے تو کچھ کھونا تو پڑے گا میرے قوم کے بچوں کو نیا مستقبل اور نیا پاکستان دینے کیلئے مت ڈرو آگے بڑھو سچ کا سامنا کرو،،،کچھ دے سکتے ہو بھاشن مت دو اس قوم کو امن دو ایک ماں کو وہ تحفظ دو جو اسکو امید دلائے کہ شام کو اسکا بیٹا گھر لوٹ کے آسکے گا۔۔۔۔خدارا ملک کو امن دو ،،اس قوم کو امن دو،،،دے سکتے ہو اآگے بڑھو

اپنا تبصرہ بھیجیں