New ceasefire agreement between Azerbaijan and Armenia




آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان عارضی جنگ بندی کا نیا معاہدہ آج رات 8 بجے سے نافذ ہو جائے گا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیون بیراموف نے اپنے ترک ہم منصب میلوت چاوش اولو سے فون پر بات کی اور انہیں عارضی جنگ بندی کے نئے معاہدے سے متعلق آگاہ کیا۔ جیون بیراموف نے کہا کہ صدر آذربائیجان الہام علیوف نے عارضی جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔

آذربائیجان کی وزارت دفاع نے کہا کہ منسک گروپ کے رکن ممالک فرانس، روس اور امریکہ نے نئے عارضی معاہدے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی 10 اکتوبر کو دونوں ملکوں کے درمیان روسی صدر ولاد میر پیوٹن کی مداخلت پر عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا لیکن اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آرمینیا نے آذربائیجان کے گنجان آباد شہر گانجا پر حملہ کر دیا جس میں 10 شہری شہید ہو گئے تھے۔

گزشتہ روز بھی آرمینیا نے گانجا پر ایک اور حملہ کیا جس میں سکڈ میزائل استعمال کئے گئے، تازہ حملے میں آذربائیجان کے 13 شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔

دوسری جانب ترک وزیر دفاع ہلوسی آکار کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کے معصوم شہریوں پر آرمینیا کی بمباری پر ترکی خاموش نہیں بیٹھ سکتا، آرمینیا رات کی تاریکی میں معصوم شہریوں پر حملے کر رہا ہے اور آذربائیجان کے معصوم بچے شہید ہو رہے ہیں۔

ہماری زبان اور ملک مختلف ہو سکتے ہیں لیکن آذربائیجان کے معصوم بچوں پر آرمینیا کی بمباری کسی صورت قابل قبول نہیں ہے، آرمینیا نے 30 سال پہلے جس طرح آذربائیجان کے معصوم شہریوں کی نسل کشی کی تھی آج پھر وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے۔

ترکی اپنے برادر اسلامی ملک آذربائیجان کے معصوم شہریوں کی شہادت پر کسی طرح آنکھیں اور کان بند کر کے نہیں بیٹھ سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں