کرونا کو فراڈ سمجھنے والا انفلوئنسر خود وبا کا شکار –




کیف: دنیا میں کووڈ وبا کی موجودگی پر شک کا اظہار کرنے والے یوکرین کے فٹنس انفلوئنسر دمتری اسٹوز ہک کرونا کے باعث چل بسے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تین روز قبل یوکرین سے تعلق رکھنے والے اسٹوزہک نے فوٹو شیئرنگ ویب سائٹ انسٹا گرام پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی، جس میں انہوں نے اپنے فالوورز کو کرونا میں مبتلا ہونے کے بعد اپنی صحت کے بارے میں آگاہ کیا تھا.

اسپتال کے بستر سے اپنی تصاویر شیئر کرتے ہوئے اسٹوزہک کا کہنا تھا کہ ترکی کے حالیہ سفر کے دوران ایک رات وہ سانس لینے میں دشواری کے باعث بیدار ہوئے، اگلے دن وہ کھانسی میں مبتلا ہوگئے، یوکرین واپسی پر کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ ہوا جو مثبت آیا۔

انہوں نے اپنے انسٹا گرام پوسٹ میں کہا تھا کہ میں ان لوگوں میں سے ایک تھا جنہوں نے سوچا تھا کہ دنیا میں کرونا کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے، اب میں خود اس کا شکار ہوا ہوں.

اسٹوزہک نے پوسٹ کے آخر میں مزید کہا کہ ان کی حالت مستحکم ہے، ایک روز بعد اسٹوزہک کی سابقہ اہلیہ صوفیہ اسٹوزہک نے انسٹاگرام پر ان کی موت کا اعلان کیا۔

فٹنس انفلوئنسر اسٹوزہک کے انسٹا گرام پر 11 لاکھ کے قریب فالوورز ہیں جبکہ ان کی سابقہ اہلیہ صوفیہ خود بھی ایک انفلوئنسر ہیں۔

انفلوئنسرز کی تعریف کیا ہے؟

’انفلوئنسر وہ ہے جو اپنے اثرورسوخ سے پیسے کما سکتا ہے اور ان کی ایک اسپیشل پروٹیکشن یونٹ ہوتی ہے، چاہے وہ بیوٹی ہو، فیشن، کھانا پکانا، اعصابی صحت، کوئی شیف ہو، وہ اس کا استعمال کر کے اسے ایک کاروبار بنا سکتے ہیں۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں