رقم کا لالچ، امریکی طلبہ زبردستی کرونا کا شکار ہونے لگے




واشنگٹن : پلازمہ کے بدلے ملنے والی رقم کی خاطر امریکی طالبہ جان بوجھ کر کرونا وائرس کی مریض بن گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کی مہلک ترین وبا سے انسانوں کو محفوظ رکھنے حکومتیں اور عالمی ادارے بہتر سے بہتر انتظامات کرنے کی کوشش کررہے ہیں اسی دوران ایک امریکی جان بوجھ کر کوویڈ 19 کا شکار بن گئی۔

کئی ماہ گزرنے کے باوجود ویکسین نا بن سکی لیکن ڈاکٹرز نے کرونا سے صحتیاب ہونے والے افراد کے پلازمہ سے دوسرے کرونا مریضوں کا علاج شروع کیا جو بہت زیادہ مفید ثابت ہوا، دریں اثنا بہت سے ایسے افراد کا بھی انکشاف ہوا جو اپنا پلازمہ رضاکارانہ عطیہ کرنے کے بجائے فروخت کررہے تھے۔

امریکی ریاست یوٹاہ کی بریگھم ینگ یونیورسٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ بہت سے طلبہ نے پیسوں کی خود کو کرونا میں مبتلا کیا ہے تاکہ وہ رقم کے عوض پلازمہ فروخت کرسکیں۔

اس بات کی نشاندہی ڈونیشن سینٹرز نے بھی کی ہے کہ متعدد افراد کو پلازمہ کے بدلے رقم دی گئی ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے جان بوجھ کر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں