میڈیا آزاد ، نسل برباد – لبنی اسد




میڈیا ذرائع ابلاغ کا ایسا ہتھیار ہے جو بہت ہی کم وقت میں ، کسی بھی ایشو کے متعلق عوام کی ذہن سازی اور ان کی راۓ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ ریاست کا چوتھا ستون ہونے کے ناطے ، میڈیا نہ صرف سماج کا اہم حصہ ہے بلکہ اب کنگ میکر کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اس وقت میڈیا کی اہمیت اور ضرورت پہلے سے کہیں ذیادہ بڑھ گئی ہے .

جبکہ میڈیا تعمیر وترقی کا بھی ذریعہ ہےمگر آج کل ہمارا میڈیا عام لوگوں کی تباہی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارا ملک جو پوری دنیا میں “اسلامی جمہوریہ پاکستان” کے نام سے جانا جاتا ہے کیا اسکے پروگرامز ، ڈرامے یا اشتہارات دیکھ کر ایسالگتا ہےکہ یہ اسلامی ملک کی عکاسی کررہے ہیں ؟ ایک نظر مختلف چینلز سے نشر کیے جانے والے ڈراموں پر اگر ڈالی جاۓ تو کہیں سالی بہنوئی کی محبت ، تو کہیں دیور بھابھی کی محبت کہیں نوجوان لڑکا لڑکی کے عشق کی کہانی دکھائی جارہی ہے اور تو اور شادی شدہ عورت کو اغواء کے بعد ذیادتی کا نشانہ بنا کر عوام کو دکھایا جارہا ہےاور اسطرح تشہیرکی جارہی ہے کہ دیکھنے والوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ پھر اگراشتہارات کی بات کی جاۓ تو کہیں شیمپو اور صابن کی ایڈور ٹائز نگ کے لیے عریاں جسم دکھایا جارہا ہوتا ہے تو کہیں مختلف کریموں کے اشتہار بے حیائی پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں .

اور تو اور صنف نازک کی مخفی اشیاء جو دکھانے سے گریز کرنا چاہیے اسکو باقاعدہ طور پر بار بار دکھا یا جاتا ہے۔ اسطرح سے بے حجابی کو عام کرکے میڈیا نوجوان نسل کو کس طرف لے جانا چاہتا ہے۔اسکے بعد اگر ٹاک شوز پر نظر ڈالی جاۓ تو جو بھی ایشو ہو اس پر کھلے انداز میں گرما گرم بحث کی جاتی ہے اس میں چاہے خواتین کے ساتھ ذیادتی کامعاملہ ہو یا معصوم ننھی کلیوں کو روندنے کا معاملہ ہو روز ایک ہی ٹاپک پر نت نئے انداز میں بات کی جاتی ہے لیکن میڈیا پر تشہیر کے نتیجے میں ان جرائم پر توجہ مبذول تو ہو جاتی ہے مگر سزائیں ملنے کاعمل اب بھی غیر یقینی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ میڈیا اپنی ریٹنگ بڑھانے میں مصروف ہے جبکہ صرف جرم کی تشہیر نہیں اصل تشہیر تو سزا کی ہونی چاہیے۔ ٹک ٹاک شوز پر بات کی جاۓ تو اس میں بھی نوجوان کیا اور معصوم بچے کیا سب کو بے حیائی کے نت نئے طریقے سمجھاۓ جا رہے ہیں .

ٹک ٹاک بنانے کے کتنے ہی شوقین اپنی جان گنوا بیھٹے ہیں جبکہ عوام ان پروگرامز پر ناپسندیدگی کا اظہار بھی کرتے ہیں تو کچھ دن کے لیے ڈرامے یا اشتہار بند کر دیے جاتے ہیں پھر کسی دوسرے انداز میں دوبارہ شروع کر دیے جاتے ہیں۔ملک میں بڑھتے ہوۓ جرائم،ذیادتی کے کیسزمیں اضافے کے ذمہ دار ریاستِ مدینہ کے دعویدار تو ہیں ہی لیکن ان کے ساتھ ساتھ کہیں نہ کہیں ان معصوم جانوں اور عزتوں کا قاتل میڈیا بھی ہے۔

مٹ جاۓ گی مخلوق توانصاف کروگے،
منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

جبکہ اس وقت کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ میڈیا کو اپنے تمام پروگرامات کا درست تعین کرنا ہوگا ۔ ذیادتی کیسز کو بار بار اُجاگر کرنے کی بجاۓ شرعی سزاؤں کو یقینی بنانے پر زور دینا چاہیے جیسے زنا کی سزا سنگسار کرنا ، چوری کی سزا ہاتھ کاٹ دینا وغیرہ ۔ ریاست کا چوتھا ستون ہونے کے ناطے میڈیا پر ایک بھاری ذمہ داری یہ عائد ہوتی ہے وہ یہ کہ حق و صداقت کے بل بوتے پر اپنا کردار ادا کرے اور عوام کو صحیح معلومات فراہم کرے ضروری نہیں کہ اسلامی میڈیا صرف مذہبی پروگرام نشر کرے بلکہ علم وتحقیق ، تہذیب ، مختلف معلوماتی پروگرام بھی نشر کیے جا سکتے ہیں کیونکہ پیمرا ہی وہ واحد ادارہ ہے ، جو اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوۓ میڈیا پر نشر کیے جانے والے تمام پروگرامز کا بغور جائزہ لے سکتا ہے اور نظر ثانی کرسکتا ہے .

کیونکہ اُمّتِ مُسلمہ ایک ذمہ دار اُمّت ہےاور اللہ نے اس امت کو اپنا پیغام پہنچانے کے عظیم منصب پر فائز کیا ہے لہذا موجودہ ذرائع و ابلاغ کو استعمال کرکے انسانیت کو سیدھے راستے پر لانے کے لیے بہترین مدد مل سکتی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں