ٹرمپ نے مودی کو آئینہ دکھادیا،بھارت غلیظ ملک قرار – Urdu News – Today News




نیش وِل: امریکی صدارتی انتخابات کے آخری مباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن ایک دوسرے پر زبان کے نشتر برسا رہے ہیں

نیش وِل (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں صدارتی انتخابات سے قبل ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن کے مابین ہونے والے آخری مباحثے کے دوران دونوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جب کہ صدر ٹرمپ نے چین کو نشانے پر لینے کے ساتھ اپنے دوست ملک بھارت کو بھی غلیظ اور گندا ملک قرار دے دیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی ریاست ٹینیسی کے شہر نیش وِل ے ٹی وی پر نشر ہونے والے مباحثے کے دوران جو بائیڈن نے کورونا وائرس کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص بھی اتنی ہلاکتوں کا ذمے دار ہو، اسے امریکا کا صدر نہیں ہونا چاہیے، جس پر ٹرمپ نے اپنے نقطہ نظر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم کاروبار بند کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، اب ہمیں اس کے ساتھ رہنا سیکھنا ہوگا۔ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ٹرمپ نے بائیڈن اور ان کے بیٹے ہنٹر پر مختلف ممالک سے روابط کے الزامات عائد کیے جب کہ جو بائیڈن نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو ٹھگ قرار دیتے ہوئے سیاسی پیش رفت کو دھوکا دہی قرار دیا۔ انہوں نے سرحد پر غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے افراد کو ان کے بچوں سے علاحدہ کرنے کی حکومتی پالیسی پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے ٹرمپ کو ٹیکس چور قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 20 سال سے کوئی ٹیکس نہیں دیا۔ سابق نائب صدر کے مطابق ٹرمپ ملک کے سب سے بڑے نسل پرست صدر ہیں جو اس آگ میں مزید ایندھن ڈالتے ہیں۔ جواباً ٹرمپ نے جو بائیڈن کے خاندان پر روس کے ریاستی عہدے داروں سے پیسے لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ میں نے روس سے کبھی پیسے نہیں لیے، جس پر بائیڈن نے الزام کی تردید کرتے ہوئے جوابی وار کیا کہ دراصل ٹرمپ کو چینیوں سمیت غیر ملکیوں نے مالا مال کیا ہے۔ مباحثے کے دوران عالمی فضائی آلودگی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے اپنے دوست ملک بھارت کو غلیظ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو دیکھو، کتنا گندا ہے اور وہاں کی ہوا کتنی آلودہ ہے۔ انہوں نے بھارت کو آلودہ ہوا خارج کرنے کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سانس لینا بھی محال ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر چین کو کورونا پھیلنے کا ذمے دار قرار دیا۔ دوسری جانب ٹرمپ کے اس بیان کے بعد بھارت میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور عوام وزیر اعظم نریندر مودی سے سخت ردعمل ظاہر کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں