Prime Minister of Nepal secretly meets RAW chief, ruling coalition unaware




کھٹمنڈو: را کے سربراہ سمنت کمار کی وزیراعظم نیپال کے پی شرما کے مابین خفیہ ملاقات سے نیپال کمیونسٹ پارٹی کے رہنماوں میں گرما گرم بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بھارتی انٹیلیجنس ادارے را کے سربراہ سمنت کمار گوئل اور نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی کے مابین ہونے والی ملاقات سے نیپال میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہونے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق  نارائن کجی شریستھا کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت (کمیونسٹ) اس ملاقات کے بارے میں بے خبر تھیں اور پارٹی کے ایک داخلی اجلاس میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق نیپال کمیونسٹ پارٹی (این سی پی) کے دوسرے چیئرمین اور نیپال کے سابق وزیراعظم پشپا کمال دہل اور جماعت کے دیگر 9 مرکزی ممبران اس اجلاس سے لاعلم تھے جبکہ  یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس ملاقات سے نیپال کی وزارت خارجہ کو بھی علم نہیں تھا جو سفارتی ضابطہ اخلاق  کی خلاف ورزی ہے۔

رپورٹس کے مطابق رواں سال مئی میں نیپال کے اپنے نئے سیاسی اور انتظامی نقشے کے جاری ہونے کے بعد یہ بھارتی سرکاری اہلکار کا پہلا اعلی سطحی دورہ ہے جبکہ  ایسے وقت میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے چیف کی آمد اور وزیراعظم سے ملاقات کرنا جب دونوں ممالک کے مابین تعلقات معمول کے مطابق نہیں، گہرے معنی رکھتا ہے۔

دوسری جانب ملاقات کے غیر سرکاری اعلامیے کے مطابق را چیف نے ملاقات کے دوران نیپال اور انڈیا کے مابین دوستانہ تعلقات کو برقرار رکھنے اور موجودہ معاملات کو بذریعہ بات چیت حل کرنے اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نیپال کمیونسٹ پارٹی کے دو چیئرمین میں سے ایک ہیں جبکہ بغیر کسی اطلاع اور کسی غیر ملکی سرزمین کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ سے ملاقات نے پارٹی رہنماؤں کو بھی حیران کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں