Protests continue against Corona sanctions




میڈرڈ: کورونا وائرس کی نئی پابندیوں کے خلاف اسپین کے شہروں میں دوسری رات بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور پولیس نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا  ہے جبکہ اسپین میں کورونا کی وجہ سے رات10 سے صبح6 بجے تک کرفیو نافذ کیا گیا ہوا ہے ۔

بین الاقوامی خبررساں اداروں کے مطابق اسپین کے مختلف شہروں میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے موجودہ حکومت کی جانب سے نئی پابندیوں کے خلاف پریشان شہری سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور پابندیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  اسپین کے کئی شہروں میں احتجاج کے دوران لوٹ مار اور توڑ پھوڑ بھی کی گئی ہے اور سب سے زیادہ ہنگامے میڈرڈ میں ہوئے ہیں جہاں پر مظاہرین کی ایک بڑی تعداد آزادی کے نعرے لگا رہے تھے جبکہ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین نے کوڑے دان کو نذر آتش کیا ہوا ہے، کھڑکیوں کے شیشے توڑے ہوئے ہیں اور شہر کی مرکزی گزرگاہ پر رکاوٹیں بھی کھڑی کی ہوئی ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق  لوگرونیو شہر میں جب پولیس اہلکار مظاہرین کو ہٹانے کے لیے آگے بڑھے تو مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا جس میں 3 پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد جھڑپ کے دوران معمولی زخمی ہوئے اور پولیس کا کہنا تھا کہ 32 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ویڈیوفوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان کپڑوں کی دکان سے لوٹ مار کرکے بہت ساری چیزیں اٹھائے ہوئے ہیں اور دکان کی مالک کرسٹینا پیرز نے مقامی ٹیلی ویژن کو بتایا تھا کہ ہم کمانے کے لیے محنت کرتے ہیں اور 5 منٹ میں مظاہرین نے ہماری زندگیاں برباد کر دی ہیں۔

واضح رہے کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر اسپین میں رات 10 سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ ہوا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے پر 300 مقامی یورو کا جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ  اسپین میں بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آ رہی ہے اور اب تک اسپین میں کورونا وائرس سے 12 لاکھ 64 ہزار 517 سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اور 35 ہزار 878 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں