Black woman Kamala Devi Harris elected vice president




واشنٹن: ڈیمو کریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن 284 ریاستون سے برتری حاصل کر کے امریکہ کے صدر منتخب ہو گئے ہیں اور ان کی پارٹی کی کمالا ہیرس نائب صدر منتخب ہوگئیں ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا اور امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق جو بائیڈن کی صدارتی انتخاب میں کامیابی کے ساتھ ان کی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی کی کمالا ہیرس بھی نائب صدر منتخب ہو گئی ہیں جبکہ امریکی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایک خاتون ملک کی نائب صدر منتخب ہوئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی 56 سالہ سینیٹر کملا ہیرس کی والدہ کا تعلق بھارت  سے ہے اور ان کے والد کا تعلق جمیکا سے ہے، والدین کی طلاق کے بعد کمالا ہیرس کی پرورش بنیادی طور پر ان کی ہندو والدہ شیاملا گوپالن ہیرس نے کی جو کینسر کے شعبے میں محقق اور شہری حقوق کی سرگرم کارکن تھیں جبکہ  کملا ہیرس ڈیموکریٹ پارٹی کی ایک مقبول رہنما ہیں اور یہ پہلی مرتبہ ہے جب کسی سیاہ فام خاتون کو نائب صدر کے امیدوار کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

واضح رہے اس سے قبل کمالا ہیرس ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں جو بائیڈن کے مدمقابل تھیں اور ان کو پارٹی میں صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں ایک مقبول امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا جبکہ  ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کے بعد جو بائیڈن نے اپنی نائب صدر کے امیدوار کے لیے سینیٹر کملا ہیرس کا انتخاب کیا ہے۔

خیال رہے  ہارورڈ میں چار سال رہنے کے بعد کمالا ہیرس نے ہیسٹنگز میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے قانون کی ڈگری کی اور المیڈا کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر سے اپنے کریئر کا آغاز کیا اور 2003ء میں سان فرانسسکو کے لیے اعلی ترین ڈسٹرکٹ اٹارنی بن گئیں۔

 کمالا امریکہ کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کیلیفورنیا میں اعلی وکیل اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار کی حیثیت سے ابھریں اور کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والی پہلی خاتون اور پہلی سیاہ فام شخص منتخب ہوئیں جبکہ اٹارنی جنرل کی حیثیت سے اپنے عہدے کی تقریبا 2 میعادوں میں ہیرس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ابھرتے ہوئے ستارے کی حیثیت سے شہرت حاصل کی اور ترقی و شہرت کی اس رفتار کا استعمال کرتے ہوئے 2017ء میں کیلیفورنیا کی جونیئر امریکی سینیٹر کی حیثیت سے اپنے انتخاب کو مہمیز دی اور  امریکی سینیٹ میں منتخب ہونے کے بعد کمالا نے سینیٹ کی اہم سماعتوں میں تیکھے سوالات کرنے کے لیے ترقی پسندوں میں مقبولیت حاصل کرلی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں