US troops in syria




شام میں موجودہ امریکی سفارتکار جیمز جیفری نے خطے میں موجود امریکی افواج کی تعداد کے حوالے سے جھوٹ بولنے کا اعتراف کیا ہے۔

امریکی خبررساں ادارے ڈیفنس ون کو انٹرویو دیتے ہوئے جیفری جیمز نے اعتراف کیا ہے کہ شام میں امریکی افواج کی تعداد سے متعلق ہم ہمیشہ اپنی قیادت کی آنکھوں میں دھول جھونکتے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شام میں فوجیوں کی اصل تعداد سرکاری دستاویزات میں درج تعداد سے بہت زیادہ ہے جسے خطے میں موجود رہنے پر 2019 میں ٹرمپ رضامندی ظاہر کرچکے ہیں۔

انہوں نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 2018 اور پھر اکتوبر 2019 میں ، جب ٹرمپ نے انخلا کے حکم کو دیا تھا تو اُنہوں نے داعش کو شکست دینے کا دعویٰ کیا تھا لیکن پھر ٹرمپ خطے میں افواج کا کچھ حصہ باقی چھوڑنے پر قائل ہوگئے۔

جیفری نے یہ بھی کہا کہ شام سے امریکی افواج کا انخلاء کبھی نہیں ہوگا۔ شمال مشرقی شام میں جب ہم نے داعش کو شکست دی تو وہاں صورتحال کافی حد تک مستحکم ہوچکی تھی اور ٹرمپ انخلا پر آمادہ تھے مگر ہربار ہر ہم پانچ ایسے دلائل سامنےرکھتے تھے جس کے ذریعے ہم شام میں امریکی افواج کی موجودگی پر ٹرمپ کو قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں