دنیا کا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ، بھارت آؤٹ




ہنوئی: ایشیا پیسیفک کی پندرہ معیشتوں نے دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں، یہ ایک بڑا آزادانہ اقتصادی زون ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق جاپان، چین، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے دس رکن ممالک نے اس سمجھوتے کی منظوری آن لائن سربراہی میں دی، یہ شراکت داری دنیا کی آبادی اور جی ڈی پی کے تقریباً 30 فیصد کا احاطہ کرتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ چینی حمایت یافتہ معاہدہ ہے جس میں امریکا شامل نہیں ہے جبکہ انڈیا پہلے ہی اس سے دستبردار ہوچکا ہے، ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی میں ریجنل کمپریہنسو اکنامک پارٹنرشپ (آر سی ای پی) پر دستخط اُس گروپ کے لیے ایک اور دھچکا ہے جس کو سابق صدر باراک اوباما نے شروع کیا تھا تاہم موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چھوڑ دیا تھا۔

اس سمجھوتے پر بات چیت کا آغاز دو ہزار بارہ میں ہوا تھا، بھارت ابتدائی بات چیت کا حصہ تھا لیکن اُس نے کم محصولات کے ملکی صنعتوں پر ممکنہ منفی اثرات سے متعلق تشویش کے بعد دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔

یہ دنیا کی دوسری بڑی اکانومی کو خطے کے تجارتی قوانین کو بنانے کے لیے بہتر پوزیشن فراہم کر سکتا ہے، آر سی ای پی بیجنگ کی بین الاقوامی مارکیٹ اور ٹیکنالوجی پر انحصار ختم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں