کیا امریکی طالبہ کی دریافت کرونا مریضوں کے لئے معاون ہوسکے گی؟ –




واشنگٹن: کیا ممکن ہے کہ امریکی طالبہ کا ایوارڈ یافتہ پراجیکٹ کووڈ-19 کے کسی ممکنہ علاج کی بنیاد بن جائے؟

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق انیکا شبرولا ریاست ٹیکساس کے شہر فرسکو میں آٹھویں جماعت کی طالبہ ہیں اور وہ طبی محقق بننے کی خواہشمند ہیں۔

گذشتہ ماہ ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی چودہ سالہ انیکا چیبرولو کو ایک ایسا مالیکیول دریافت کرنے پر نوعمر سائنس دان دوہزار بیس کے اعزاز سے نوازا گیا تھا، جو کرونا وائرس کے پروٹین سے جڑ سکتا ہے اور اس دریافت سے کووڈ-19 کے علاج میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

انیکا نے شروع میں انفلوئنزا وائرس کا علاج تلاش کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، مگر دنیا بھر میں کووڈ نائنٹین کے وبا پھوٹنے کے بعد اس نوجوان سائنس دان اور اُن کے سرپرست نے یہ خیال ترک کیا اور ایک ایسے مالیکیول کی تلاش شروع کی جو سارز-کوو-2 کے وائرس کے نمایاں پروٹین کے ساتھ جڑ سکے اور اس کی انسانی خلیوں کو متاثر کرنے کی اہلیت کو روک دے۔انیکا نے کمپیوٹر ماڈلنگ کو استعمال کرتے ہوئے اُس مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو کووڈ-19 کا باعث بننے والے کورونا وائرس کے ساتھ جڑ سکتا ہے اورلوگوں کو متاثر کرنے کی اس کی اہلیت کو روک سکتا ہے، اس تاریخی تحقیق پر انیکا نے گرمیوں میں بھی بلاناغہ کام کیا۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں انیکا نے بتایا کہ چونکہ میرا سارا کام کمپیوٹر پر کیا جانا تھا اور اس کے لیے مختلف قسم کے سافٹ ویئر درکار ہوتے ہیں، لہذا میں نے اپنا پورا پراجیکٹ گھر سے مکمل کیا۔انیکا کا کہنا تھا کہ عالمی وباؤں، وائرسز اور دواؤں کی دریافت پر اتنا زیادہ وقت لگانے کے بعد یہ سوچنا انتہائی سنسنی خیز ہے کہ درحقیقت میں اس طرح (کرونا وائرس) کے دور میں رہ رہی ہوں۔

اکتوبر میں انیکا نے اپنے پراجیکٹ پر 2020 کا نوجوان سائنس دانوں کے چیلنج کا تھری ایم ایوارڈ جیتا جس میں 25,000 ڈالر کا انعام بھی شامل ہے، اس کے علاوہ انیکا کووڈ-19 کا علاج تلاش کرنے کی عالمی کوششوں میں بھی حصہ لے رہی ہیں۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں