متنازع بل کیخلاف احتجاج، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبہ کی ضمانت منظور




نئی دہلی : متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے والی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبہ کی ضمانت کئی ماہ بعد منظور ہوگئی۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی انتہاپسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے منظور کروائے گئے شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے والے جامعہ ملیہ سمیت ہر طبقے کے افراد کو پولیس نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا تھا جن میں طالبہ گلفشہ فاطمہ بھی شامل تھیں۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی عدالت نے جامعہ ملیہ کی طالبہ کی ضمانت منظور کرلی ہے۔

بھارتی شہریت بل کے خلاف مظاہرے کی قیادت کرنے کی پاداش میں گلفشہ فاطمہ کو 9 اپریل کو گرفتار کرکے تہار جیل میں قید کردیا تھا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق تقریباً 220 دن سے تہار جیل میں قید گلفشہ فاطمہ نے بھارتی پولیس پر ہراسانی کا الزام بھی لگایا تھا۔

خیال رہے کہ جامعہ ملیہ کے طلبہ نے متنازع قانون کی منظوری کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

پولیس مسلمانوں کے حق میں احتجاج روکنے کے لیے دہلی کی جامعہ ملیہ کے طلبہ پر ٹوٹ پڑی تھی اور طلبہ و طالبات پر وحشیانہ تشدد کیا تھا۔

بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ پولیس گرلز ہاسٹل اور جامعہ ملیہ کی مسجد میں بھی گھسی تھی اور پناہ گزین طالبات کو بری طرح مارا پیٹا تھا اور اسکارف پہنی طالبات کو بالوں سے گھسیٹ کر گاڑیوں میں ڈالا گیا جبکہ لاٹھیاں بھی چلائی گئیں اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں