سیاہ فام کی ہلاکت پر برازیل میں ہنگامے، دل دہلانے والی ویڈیو بھی سامنے آگئی




ریوڈی جینرو: برازیل میں نسلی پرستی کے واقعے نے ایک سیاہ فام شخص کی جان لے لی ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ دل خراش واقعہ گذشتہ روز برازیل کے شہر پورٹو الیگری میں پیش آیا تھا، جہاں سیکیورٹی گارڈز کی غیر انسانی سلوک کے باعث ایک سیاہ فام کی موت واقع ہوئی تھی ، اندوہناک واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ، جو ملک میں پر تشدد واقعات کا محرک بنی۔

#BrazilJoão Alberto Silveira Freitas, 40, was beaten to death by a military cop and a security guard in the parking lot of Carrefour supermarket in #PortoAlegre’s Passo d’Areia neighborhood.#BlackLivesMatter pic.twitter.com/O8PenZfCk0

— th1an1 (@th1an1) November 20, 2020

وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سیاہ فام شخص البرٹو سلویرا فرائٹاس کو سپر اسٹور کے باہر ایک سیکیورٹی اہلکار نے دبوچ رکھا ہے جبکہ دوسرا گارڈ مسلسل اس کے چہرے پر تشدد کررہا ہے، سیاہ فام شخص کے چہرے پر بدترین تشدد کے بعد بھی سیکورٹی گارڈ کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تو اس نے اپنا گھٹنا فرائٹاس کے چہرے پر رکھ دیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق سکیورٹی گارڈز بین الاقوامی سُپر مارکیٹ کارفور میں اپنے ڈیوٹی انجام دیتے ہیں، بدترین واقعے پر کار فور انتظامیہ نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سیاہ فام شہری کی ہلاکت میں ملوث سکیورٹی گارڈ کو فارغ کرنے کی اطلاع سکیورٹی کمپنی کو دے دی گئی ہے۔

واقعے سے متعلق سپر اسٹور کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ جس سکیورٹی فرم نے ہمیں یہ سکیورٹی گارڈ فراہم کیے تھے اس واقعہ کے بعد ہم نے ان کے ساتھ اپنا کنٹریکٹ ختم کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد پورٹو الیگری کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے شہروں میں ہنگاموں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا، ملک بھر میں سیاہ فام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور توڑ پھوڑ شروع کردی، مظاہرین نے سپر اسٹور کے باہر نعرہ بازی کرتے ہوئے بلیک لائیوز میٹ اور کار فور کِلر کے نعرے بھی لگائے ۔

احتجاجی مظاہروں کے دوران ایک بینر پر کارفور کے ہاتھ سیاہ فام انسان کے خون سے رنگے ہیں بھی لکھا ہوا تھا۔ واقعے کے بعد کئی اسٹورز کو آگ لگادی گئی ہے، نسلی تعصب کا شکار ہونے والے البرٹو سلویرا فرائٹاس کو مظاہرین نے برازیلی جارج فلوئیڈ قرار دے دیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس تاریخ کو برازیل میں ہر سال بلیک کانشس ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے، برازیل میں سیاہ فام کمیونٹی کی اہمیت اور ملکی خدمات کے اعتراف میں بلیک کانشس ڈے کے موقع پر خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، لیکن اسی دن ایک سیاہ فام کو سفید فام سکیورٹی گارڈز نے مار مار کر ہلاک کر دیا۔دوسری جانب سیکیورٹی فورسز نے البرٹو سلویرا فرائٹاس کی ہلاکت میں ملوث دونوں سیکیورٹی گارڈز کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے، حکام کے مطابق ان میں سے ایک سیکیورٹی گارڈ آف ڈیوٹی ملٹری پولیس آفیسر تھا جو اس تشدد میں شامل تھا۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل امریکہ میں سیاہ فام جارج فلوئیڈ کے بہیمانہ قتل کے بعد مجھے سانس نہیں آرہا کے سلوگن کے ساتھ دنیا بھر کے ممالک میں سیاہ فام نے شدید احتجاج کیا تھا، فلوئیڈ کو ایک امریکی پولیس اہلکار نے گردن پر گھٹنا رکھ کر ہلاک کر دیا تھا اور پھر ساری دنیا میں بلیک لائیوز میٹر کی تحریک شروع ہو گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکا میں سیاہ فام کی دردناک موت پولیس افسران کو لے ڈوبی

اس تحریک کے حق میں ساری دنیا کے مختلف شہروں میں احتجاجی جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں، اس تحریک کی بازگشت اب بھی سنائی دے رہی ہے۔

Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں